اسلام کا وراثتی نظام — Page 50
فوت ہو چکے ہیں۔اور اس کے دو بیٹے اور ایک بیٹی موجود ہیں اس لئے ۲۵۰۰ روپے ان میں ۱:۲ کی نسبت سے تقسیم ہوں گے۔عمر کے ہر بیٹے کا حصہ = ۲۵۰۰ × ۲/۵ = ۱۰۰۰ روپے = ۵ × ۲۵۰۰ = 1/0 ۵۰۰ روپے عمر کی بیٹی کا حصہ قرض اور وصیت کی بحث سے اب یہ بات تو ظاہر ہے کہ ایک مقروض آدمی جس کا ترکہ اس کے قرضہ کا بمشکل مستعمل ہے وصیت نہیں کر سکتا۔اسی طرح موصی کو چاہئے کہ غیر شرعی چیزوں کے لئے یا بدرسوم کے لئے وصیت کرنے سے اجتناب کرے لیکن اگر کوئی شخص ایسے کاموں کے بارہ میں وصیت کر بھی دے تو وارثوں پر اس کا پورا کرنا ہرگز ہرگز واجب نہیں اور انہیں اس کی تعمیل نہیں کرنی چاہئے۔وصیت کرتے وقت موصی کا ہوش و حواس میں ہونا لازمی ہے (بہتر ہے کہ وصیت رشتہ داروں کے روبرو کی جائے ) اور وصیت پر کم از کم دو اشخاص کی شہادت ضروری ہے جو وصیت کی تصدیق کریں اور اس بات کی گواہی دیں کہ متوفی نے اپنی زندگی میں بقائمی ہوش و حواس وصیت کی تھی۔وصیت ترکہ کے ۱/۳ حصہ تک کی جاسکتی ہے۔اگر میت کا کسی قسم کا کوئی وارث موجود نہیں اور اس کے ذمہ کسی قسم کا قرضہ بھی نہیں تو پھر وہ کل مال کی وصیت بھی کر سکتا ہے۔اپنی جائداد کسی غیر شخص کو بھی دے سکتا ہے اور کل جائداد فی سبیل اللہ بھی وقف کر سکتا ہے۔جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو وصیت کی ترغیب دلاتے رہتے تھے تاکہ بعد میں ورثاء کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔چنانچہ اب ہمیں اس مقدس فریضہ کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور اس حدیث کے مطابق عمل کرنا چاہئے۔عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَاحَقُّ امْرِيُّ مُسْلِمٍ لَّهُ شَيْءٌ (يُرِيدُ أَنْ يُوْصِي فِيْهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ۔( بخاری کتاب الوصایا۔نیز مسلم۔کتاب الوصیۃ ) حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کے