اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 45 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 45

۴۵ مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس وصیت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ کسی وارث کو جس کا شریعت نے حصہ مقرر کر دیا ہے اس کے حق سے زیادہ دے دے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بڑی سختی سے منع فرمایا ہے چنانچہ حدیث میں آتا ہے۔إِنَّ اللَّهَ أَعْطى كُلَّ ذِى حَقِّ حَقَّهُ فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثِ (تَزِندی) اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کا حق مقرر کر دیا ہے اس لئے کسی وارث کے لئے جس کا اللہ تعالیٰ نے حصہ مقرر کر دیا ہے۔وصیت نہیں ہو سکتی۔پس یہ آیت نہ منسوخ ہے اور نہ بلا ضرورت۔بہت دفعہ مرنے کے بعد ورثاء میں تقسیم مال پر جھگڑا ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ غیر رشتہ دار بھی کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں اتنا روپیہ دینے کا اس نے وعدہ کیا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہدایت دے دی کہ مرنے والے کو وصیت کر دینی چاہئے تاکہ کوئی جھگڑا نہ ہو اور یہ سوال نہ اُٹھے کہ مرنے والے نے علاوہ رشتہ داروں کے اوروں کے حق میں بھی وصیت کی ہے اور یہ وصیت رشتہ داروں کے سامنے ہونی چاہئے۔“ پس ہر قسم کے جھگڑوں اور خاندانی فتنوں سے بچنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وصیت کر دی جائے کہ ترکہ احکام شریعت اسلامیہ کے مطابق تقسیم ہو اور ایسے رشتہ داروں کے حق میں حسب حالات کچھ وصیت کر دی جائے۔جن کے حصے معین طور پر قرآن پاک میں مقرر تو نہیں ، لیکن ان کی مدد کرنا اخلاقی ، معاشرتی اور مذہبی طور پر واجب ہو ( مثلاً یتیم پوتا، یتیم بھتیجا اور یتیم بھانجا اسی طرح ترکہ کا کچھ حصہ مختلف نیک کاموں میں خرچ کرنے کی وصیت کی جا سکتی ہے یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان اپنی میراث سے کتنے حصہ تک کی وصیت کر سکتا ہے؟ اس بارہ میں بھی شریعت اسلامی نے نہایت احسن رنگ میں بنی نوع انسان کی رہنمائی کی ہے۔چنانچہ ذیل کی احادیث ملاحظہ ہوں۔وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ مَرِضْتُ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفَيْتُ عَلَى الْمَوْتِ فَاتَانِى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَقُلْتُ يَارَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِى مَالًا كَثِيراً أَوَّلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَتِي