اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 44 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 44

۴۴ الف کا حصہ ب کا حصہ ج کا حصہ = ۵/۱۰ × ۵۰۰ = ۳/۱۰ × ۵۰۰ = = ۲۵۰ رو۔روپے = ۱۵۰ روپے ۵۰۰ × ۲/۱۰ = ۱۰۰ روپے یعنی الف کو اپنے ۵۰۰ قرضہ کی بجائے ۲۵۰ ملیں گے اور ب اور ج کو ۳۰۰ اور ۲۰۰ کی بجائے بالترتیب ۱۵۰ روپے اور ۱۰۰ روپے ملیں گے۔باقی قرضہ کی رقم جو متوفی کے ترکہ سے پوری نہ ہو سکے اس کی ادائیگی وارثوں پر قانو نا لازم نہیں ہاں اگر وہ ( ورثاء ) ادا کر دیں تو مستحسن ضرور ہے اس لئے اگر ورثاء بآسانی قرضہ کی ادائیگی کر سکیں تو ضرور کر دینی چاہئے۔( تا کہ مرنے والے کی گردن قرض سے آزاد ہو جائے ) لیکن اگر ورثاء ادا نہ کر سکیں یا نہ کرنا چاہیں تو قرض خواہ کو اپنا قرضہ معاف کو دینا چاہئے اور اس کی جزاء کی امید خداوند کریم سے رکھے چنانچہ روایت ہے کہ ایک بہت بڑا مالدار آدمی تھا اس نے اپنے ملازموں سے کہا ہوا تھا کہ وہ جب کسی مقروض کے پاس قرض وصول کرنے کے لئے جائیں اور وہ تنگ دست ہو تو اسے مہلت دے دیا کریں اور اگر وہ ادا ہی نہ کر سکے تو معاف کر دیا کریں۔شائد اللہ تعالیٰ ہم پر بھی رحم فرمائے جب اس کا انتقال ہوا تو اس کے سوا اس کا کوئی اور نیک عمل موجود نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جیسا تو لوگوں کو معاف کر دیا کرتا تھا ہم نے بھی تیری خطائیں معاف کیں اور وہ جنت میں داخل ہوا۔۔تیسری چیز جو تقسیم ترکہ پر مقدم ہے وہ وصیت ہے قرآن پاک کے مطالعہ سے بات ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مومن کو وصیت کرنے کا ارشاد فرمایا ہے ملاحظہ ہو آیت نمبر ۱۸۱ سورة بقره: كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرَا بِالْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ جب تم میں سے کسی پر موت کا وقت آ جائے تو تم پر بشر طیکہ مرنے والا بہت سا مال چھوڑے والدین اور قریبی رشتہ داروں کو امر معروف کی وصیت کر جانا فرض کیا گیا ہے۔یہ بات متقیوں پر واجب ہے اسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تفسیر کبیر سورۃ بقرہ جلد دوم صفحہ ۳۶۷ پر تحریر فرماتے ہیں۔