اسلام کا وراثتی نظام — Page 43
۴۳ متوفی کے ترکہ سے صرف وہی قرضہ قابل ادا ہے جس کی تحریر اس کی طرف سے اس کی زندگی میں ہی لکھی ہوئی موجود ہو یا اس نے اپنی وفات سے پہلے اس قرضہ کا اقرار اپنے ورثاء کے سامنے کیا ہو یا چند معتبر لوگوں کی گواہی سے وہ قرضہ ثابت ہو جائے ورنہ ایسے قرضہ کی ادائیگی کے ورثاء ذمہ دار نہیں جس کی نہ تو تحریر ملتی ہو اور نہ ہی متوفی نے کبھی اپنی زندگی میں اس کا اقرار کیا ہو اور نہ ہی کوئی ایسے معتبر لوگ ملتے ہوں جو اس قرضہ کی گواہی دے زوجہ کا حق مہر خاوند کے ذمہ ایک قرض ہوتا ہے جس کا وہ نکاح کے وقت لوگوں کے سامنے اقرار کرتا ہے اور نکاح فارم کی صورت میں فی زمانہ اس قرضہ کی تحریر بھی دی جاتی ہے اس قرضہ کی ادائیگی نہایت اہم اور ضروری ہے اس لئے چاہئے کہ اپنی بیویوں کے حق مہر اپنی زندگی میں ہی ادا کر دیئے جائیں لیکن اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں حق مہر ادا نہ کر سکے تو اس کے ورثاء کو چاہئے کہ ترکہ کی تقسیم سے پہلے اس قرضہ کی بھی ادا ئیگی کر دیں۔پھر ترکہ تقسیم کروائیں۔جیسا کہ ان آیات سے ظاہر ہے۔ان تمام احادیث سے عیاں ہے کہ قرضہ کی ادائیگی از بس ضروری ہے خواہ متوفی خود اپنی زندگی میں ادا کرے یا وفات کے بعد اس کے ورثاء ادا کریں اس لئے اگر ترکہ قرضہ کا کفیل ہو سکتا ہو تو پھر پہلے تمام قرضہ ادا کیا جائے بعد میں میراث تقسیم ہو۔لیکن اگر متوفی کے ذمہ قرضہ زیادہ ہو اور اس کا ترکہ کم ہو تو اس صورت میں اس کا کل ترکہ قرض خواہوں میں قرضہ کی نسبت سے تقسیم کر دیا جائے اور جو قر ضہ رہ جائے اس کو چاہے قرض خواہ معاف کر دیں چاہے آخرت پر چھوڑ دیں۔یہ بات ایک مثال سے زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔فرض کیجئے۔زید کے ذمہ ایک ہزار روپیہ قرض ہے جس کی تفصیل یہ ہے۔۵۰۰ روپے الف کے ہیں ۳۰۰ روپے ب کے اور ۲۰۰ روپے ج کے۔زید کا ترکہ صرف ۵۰۰ روپے ہے۔اب یہ ترکہ الف - ب - ج میں ان کے قرضوں کی رقوم کے تناسب سے تقسیم ہو گا۔یعنی ۵۰۰ روپے الف، ب اور ج میں ۳،۵ اور ۲ کی نسبت سے تقسیم ہوگا۔اس لئے