اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 42 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 42

۴۲ اشرفیاں۔آپ نے فرمایا تم لوگ خود ہی اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو۔ابو قتادہ نے عرض کی یا رسول اللہ اس کے قرضہ کی ادائیگی میرے ذمہ رہی آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں۔اس پر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی۔اسی طرح حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کسی ایسے مرد کا جنازہ لایا جاتا جس پر قرض ہو تو آپ پوچھتے کیا اس نے اتنا مال چھوڑا ہے جس سے قرضہ ادا کیا جا سکے۔اگر یہ کہا جاتا کہ قرضہ کی ادائیگی کے بقدر مال چھوڑا ہے تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے ورنہ صحابہ سے فرماتے تم اپنے دوست کی نماز جنازہ پڑھو۔پھر جب خداوند تعالیٰ نے آپ کو فتوحات مرحمت فرما ئیں تو آپ نے فرمایا میں مومنوں سے ان کی جانوں سے زیادہ قریب کا تعلق رکھتا ہوں۔پس جو شخص کوئی مال چھوڑے بغیر فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ قرض ہو تو۔اس قرض کی ادائیگی میرے ذمہ ہے اور جو مال وہ چھوڑے اور اس پر کوئی قرضہ نہ ہو تو یہ مال اس کے وارثوں کا ہے۔( صحیح مسلم مع شرح علامه نوری صفحه ۹۸۲) مندرجہ بالا احادیث سے قرض کی ادائیگی کی اہمیت پر واضح روشنی پڑتی ہے ہر مسلمان کو چاہئے کہ اسے بحالت مجبوری اگر قرض لینا پڑ ہی جائے تو قرض لیتے وقت خلوص دل سے اس کی ادائیگی کی نیت کرے اور ادائیگی کی کوشش بھی کرتا رہے کیونکہ اگر نیت صحیح ہو تو خدا تعالیٰ اپنے فضل سے اس کے پورا کرنے کی توفیق دے ہی دیتا ہے جیسا کہ ذیل کی حدیث سے ظاہر ہے۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ اَدَاءَ هَا أَدَّى اللَّهُ عَنْهُ وَمَنْ اَخَذَهَا يُرِيدُ اتُلافَهَا أَتْلَفَهُ اللهُ ( صحیح بخاری کتاب الاستقراض صفحه ۴۵۱) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں کا مال قرض لے اور وہ اس کے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اللہ اس کے ادا کرنے کے سامان کر دے گا اور جو شخص لوگوں کا مال لے اور ضائع کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے ضائع کر دے گا۔