اسلام کا وراثتی نظام — Page 37
۳۷ کا ایک بھائی ہو وہ اس کے سب ترکہ کا وارث ہو گا اگر فوت ہونے والے بھائی کی دو بہنیں ہوں (اس کی اولاد نہ ہو) تو جو کچھ اس بھائی نے چھوڑا اس کا دو تہائی (۲/۳) اُن بہنوں کا ہوگا۔اگر میت کے وارث بھائی بہنیں ہوں مرد ( بھی ) اور عورتیں بھی تو ان میں سے مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہوگا۔ان دونوں آیات میں کلالہ کی دو مختلف صورتوں کا ذکر ہے پہلی آیت نمبر ۱۳ سورہ نساء میں اس کلالہ کا ذکر ہے جس کے صرف اور صرف مادری (اخیافی) بہن بھائی زندہ ہوں انہیں حسب حالات کلالہ کے ترکہ کا ۱/۶ یا ۱/۳ ملے گا۔دوسری آیت نمبر۱۷۷ میں اس کلالہ کا ذکر ہے جس کے حقیقی ( یعنی عینی ) یا علاقی (باپ کی طرف سے ) بہن بھائی موجود ہوں انہیں مذکورہ بالا قواعد کے مطابق حصہ ملے گا اور اگر اس کلالہ کے حقیقی۔علاتی بہن بھائیوں کے ساتھ ساتھ اخیافی (مادری) بہن بھائی بھی ہوں تو اخیافی کو ۱/۶ یا ۱/۳ (جو بھی صورت ہو ) دے کر باقی تر کہ دو اور ایک کی نسبت سے حقیقی اور علاقی بھائیوں بہنوں میں تقسیم ہوگا۔ے۔دادی اور نانی کا حصہ وَعَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ لِلْجَدَّةِ السُّدُسَ إِذْلَمْ تَكُنْ دُونَهَا أُمِّ (ابوداؤد ) ( مشکوۃ باب الفرائض فصل ۳) حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔دادی اور نانی کا چھٹا (۱/۶) حصہ مقرر ہے اگر ماں حاجب نہ ہو۔شرعی وارث کو اس کے حق سے زیادہ دینے سے اجتناب: ( یعنی کسی شرعی وارث کے حق میں وصیت نہیں ہو سکتی ) حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے خطبہ حجۃ الوداع میں ارشاد فرمایا۔إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٌّ حَقَّهُ فَلَاوَصِيَّةَ لِوَارِثِ۔ترندی۔ابواب الوصایا۔باب۴) اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کا حق مقرر کر دیا ہے اس لئے کسی ایسے وارث کے لئے جس