اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 35 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 35

۳۵ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ دونوں لڑکیاں سعد بن ربیع کی ہیں جو اُحد کی لڑائی میں آپ کے ساتھ ( کافروں سے جنگ کرتے ہوئے ) شہید ہو گیا ہے۔اب ان کے چچانے ان کا مال لے لیا ہے اور ان ( لڑکیوں ) کے لئے کچھ بھی نہیں چھوڑا۔مال نہ ہونے کی صورت میں ان سے کوئی نکاح بھی نہیں کرتا۔حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا۔اس معاملہ کا فیصلہ خدا تعالیٰ کرے گا۔(صبر کرو) چنانچہ میراث کی آیت نازل ہوئی (یعنی يُوصِيكُمُ اللهُ فِى۔۔الخ آپ نے فورا لڑکیوں کے چچا کو بلایا اور فرمایا سعد کی بیٹیوں کو ۲/۳ اَوْلَادِكُمْ۔دو تہائی مال دے دو اور ۱/۸ لڑکیوں کی والدہ کو اور باقی جس قدر بچے وہ تیرا ہے۔۳۔بھانجے کو میراث کا ملنا وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِفٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّتِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْ اَنْفُسِهِمْ - ( صحیح بخاری کتاب الفرائض) حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہر قوم کا بھانجہ اُن ہی میں سے ہے یعنی بھانجہ کو بھی ذوی الارحام میں سے ہونے کی وجہ سے میراث میں حصہ ملتا ہے۔وو ۴۔مسلمان کا فر کا اور کا فرمسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا عَنْ أَسامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ (صحیح بخاری و صحیح مسلم باب الفرائض ) حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مسلمان محارب کا فر کا وارث نہیں ہو سکتا اور نہ محارب کا فرمسلمان کا وارث ہوسکتا ہے۔۵۔قاتل مقتول کا وارث نہیں ہو سکتا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَّسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْقَاتِلُ لا يرت (سنن ابن ماجہ جلد دوم ابواب الفرائض صفحه ۳۶۵ (۸۹۸ح)