اسلام کا وراثتی نظام — Page 29
۲۹ وَ إِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُوا الْقُرْبَى وَالْيَتْمَى وَالْمَسْكِينُ فَارْزُقُوهُمُ مِنْهُ وَقُولُو الَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا۔(سورة النساء آیت (۹) اور جب ترکہ کی تقسیم کے وقت (دوسرے) قرابت دار اور یتیم اور مسکین بھی آ جائیں تو اس میں سے کچھ انہیں بھی دے دو اور انہیں مناسب ( اور عمدہ ) باتیں کہو۔عام طور پرحسن سلوک کے علاوہ اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اگر مرنے والے کی طرف سے غرباء کے لئے وظائف مقرر ہوں تو انہیں جاری رکھا جائے۔“۔یتیم پوتے یا بھتیجے کے متعلق خصوصا اور دوسرے بتائی کے بارے میں عموماً حالات کے مطابق ضرور کچھ نہ کچھ دینے کا تاکیدی ارشاد :- وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْتَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعفًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللَّهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (سورة نساء آیت ۱۰) اور جو لوگ ڈرتے ہوں کہ اگر وہ اپنے بعد کمزور اولا دچھوڑ گئے تو اس کا کیا بنے گا۔ان کو ( دوسرے تیموں کے متعلق بھی ) اللہ کے ڈر سے کام لینا چاہئے اور چاہئے کہ وہ صاف اور سیدھی بات کہیں۔-۴- بیتامی کا مال کھانے والوں کے لئے انتباہ ان رشتہ داروں کے لئے سخت انتباہ ہے جو اپنے خاندان کے ان یتامی کی جائداد کو ضائع کر دیں جو ابھی چھوٹے ہیں اور اپنی جائداد کو بوجہ اپنی کم عمری کے سنبھال نہیں سکتے۔اِنَّ الَّذِينَ يَأكُلُونَ اَمْوَالَ الْيَتمى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًاه (سورة نساء : آیت ۱۱) جو لوگ ظلم سے قتیموں کے مال کھاتے ہیں وہ یقیناً اپنے پیٹوں میں صرف آگے بھرتے ہیں اور وہ یقیناً شعلہ زن آگ میں داخل ہوں گے۔