اسلام کا وراثتی نظام — Page 294
۲۹۴ کا قائمقام تصور کر لیں تو اس طرح اس میت کے چار بیٹے ، تین بیٹیاں ، زوجہ اور والدہ وارث ہوں گی اور تقسیم یوں ہوگی۔والدہ کا حصہ زوجہ کا حصہ باقی = 1 - 4 1/4 = ۲۴ = 1 + 2 ٢٤ - 1 = ( ± + اس لئے ہر بیٹے کا حصہ = ہے ہر بیٹی کا حصہ ✓ = ۲۴ ۱۷ ۲۶۴ = یتیم پوتوں کے والد کا حصہ = ہے جس میں سے ۳۴ ۲۶۴ ۱۷ ۲۶۴ = + x = ۳۴ ۲۶۴ ہر یتیم پوتے کا حصہ اب اگر دادا کی جائداد ۲۶۴۰۰ روپے مالیت کی ہو تو ہر یتیم پوتے کو ۲۶۴۰۰ = ۱۷۰۰ روپے ملیں گے۔× ۱۷ ۲۶۴ اگر دادا یتیم پوتوں کے حق میں اُن کے حالات کے مطابق وصیت کر جائے تو انہیں جائداد کے ۱/۳ حصہ کی مالیت تک ترکہ مل سکتا ہے۔اس طرح دونوں یتیم پوتوں کو مبلغ ۲۶۴۰۰ × = = ۸۸۰۰ روپے تک مل سکتا ہے یعنی ہر ایک یتیم پوتے کو ۴۴۰۰ روپے جو قائم مقامی کی صورت سے بہت بہتر ہے۔اس طریق سے یتیم پوتوں کے حقوق دادا کے ترکہ میں پوری طرح محفوظ ہو جاتے ہیں کیونکہ ترکہ وصیت کے بعد ہی ورثاء میں تقسیم ہوتا ہے۔اس لئے پہلے یتیم پوتے حصہ حاصل کریں گے پھر جوان چا اور دوسرے وارث حصہ پائیں گے۔مصر میں بھی ۱۹۵۰ء میں بموجودگی چا یتیم پوتے کے وارث ہونے کا سوال قانون دانوں کے سامنے اٹھایا گیا انہوں نے اس مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر علماء کی ایک کمیٹی مقرر کر دی۔علماء نے اس کے لئے اس سے ملتی جلتی تجویز پیش کی جس کے مطابق۔مندرجہ ذیل قانون وہاں نافذ ہوا۔و یتیم پوتے کی صورت میں دادا کے لئے لازمی ہے کہ وہ یتیم پوتے کے حق میں اپنی جائداد کے ۱/۳ حصہ تک وصیت کر جائے۔اگر وصیت نہ