اسلام کا وراثتی نظام — Page 22
۲۲ مگر جو شخص اس وصیت کو سننے کے بعد بدل دے تو اس کا گناہ صرف انہی پر ہوگا جو اسے بدل دیں اللہ یقیناً خوب سننے والا اور بہت جاننے والا ہے۔پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے متقیوں کے لئے امر معروف کی (یعنی احکام وراثت پر عمل کرنے کی ) وصیت کرنے کو فرض قرار دیا ہے اور دوسری آیت میں موصی کی اس وصیت میں کسی قسم کی تبدیلی کے خلاف تنبیہ کی گئی ہے۔غرض یہ ہے کہ ترکہ کی تقسیم اور وصیت احکام وراثت کے مطابق ہو۔وصیت کرنے والا احکامِ وراثت کے مطابق وصیت کرے اور ترکہ تقسیم کرنے والے اس وصیت کی ایسی تشریح نہ کریں جو احکام وارثت کے خلاف ہو۔ورنہ یہ لوگ گنہگار ہوں گے اور اس گناہ کا وبال ان پر پڑے گا۔ان مندرجہ بالا آیات کی تفسیر فرماتے ہوئے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تفسیر کبیر سورہ بقرہ حصہ دوم کے صفحہ ۶۶ - ۳۶۵ پر تحریر فرماتے ہیں :- اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے متعلق مرنے والے کو جو وصیت کرنے کا حکم دیا ہے اس کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسی وصیت ہے جس کی تعلیم دی گئی ہے۔جب کے شریعت نے خود احکام وراثت کو سورۃ نساء میں تفصیلاً بیان کر دیا ہے اور ان کے نزول کے بعد رشتہ داروں کے نام وصیت کرنا بے معنے بن جاتا ہے سو اس کے متعلق یا د رکھنا چاہئے کہ بعض لوگ تو کہتے ہیں کہ وصیت کے احکام چونکہ دوسری آیات میں نازل ہو چکے ہیں اس لئے یہ آیت منسوخ ہے۔اب پر عمل کی ضرورت نہیں۔مگر ہمارے نزدیک قرآن کریم کی کوئی آیت منسوخ نہیں۔قرآنی آیات کی منسوخی کا عقیدہ محض قلتِ تدبر کی بنا پر ظہور میں آیا ہے جب مسلمانوں کو کسی آیات کا مفہوم پوری طرح سمجھ میں نہ آیا تو انہوں نے یہ کہہ دیا کہ وہ منسوخ ہے اور اس طرح کئی کئی سو آیات تک انہوں نے منسوخ قرار دے دیں۔۔۔یہی طریق انہوں نے یہاں بھی اختیار کر لیا ہے مگر اس آیت کے جو معنے ہم کرتے ہیں اگر اس کو مدنظر رکھا جائے تو یہ حکم بڑا ہی پر حکمت نظر آتا ہے اور اسے منسوخ قرار دینے اس پر