اسلام کا وراثتی نظام — Page 21
۲۱ بعض لوگ کسی غیر کے بیٹے کو اپنے بیٹا یعنی متبنی بنا لیتے تھے اور بعض اس منہ بولے بیٹے کو کل جائیداد کا وارث بنالیتے (اگر نرینہ اولاد نہ ہو) یا اسے حقیقی بیٹوں کے برابر یا ان سے بھی زیادہ حصہ دے دیتے تھے۔مندرجہ بالا صورتوں میں سے خواہ کوئی بھی صورت ہو عورت ہر حالت میں جائیداد سے محروم رہتی تھی۔وہ اپنے والد، بھائی، خاوند اور بیٹے کی جائیداد سے بکلی محروم تھی عورت اپنے ان رشتہ داروں کی جائیداد پر غیروں کے قبضہ کو نہایت صبر سے برداشت کرتی۔اس کے پاس سوائے آنسؤوں کے اور کچھ نہ ہوتا تھا۔اہل مکہ کے مظالم سے تنگ آ کر جب حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق مکہ سے مدینہ کو ہجرت فرمائی تو آپ نے وہاں پہنچ کر ہر مہاجر صحابی کو کسی انصاری صحابی کا بھائی بنا دیا اس طرح وہ ایک دوسرے کی جائیداد کے وارث بھی بن گئے۔کچھ عرصہ بعد سورہ بقرہ کی یہ آیات نازل ہوئیں جن سے رسول اکرم سمجھ گئے کہ اب وراثت کے بارہ میں احکام جلد نازل ہونے والے ہیں۔كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرَا الوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْاقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ (آیت : ۱۸۱) " جب تم میں سے کسی پر موت ( کا وقت) آ جائے تو تم پر بشرطیکہ وہ (مرنے والا ) بہت سا مال چھوڑے۔والدین اور قریبی رشتہ داروں کو امر 66 معروف کی وصیت کر جانا فرض کیا گیا ہے۔یہ بات متقیوں پر واجب ہے۔“ (تفسیر صغیر) فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ مَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (بقرة : ١٨٣ ) خیر کے معنے مطلق مال کے بھی ہوتے ہیں اور بہت سے مال کے بھی۔اس جگہ آیت کے سیاق و سباق سے ظاہر ہوتا ہے کہ مال کثیر مراد ہے۔