اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 285 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 285

۲۸۵ ⑤ پانچویں دلیل یہ ہے کہ جس طرح بیٹا وارث ہے اسی طرح بیٹی بھی وارث ہے (صرف حصوں میں فرق ہے ) پس اگر چا کی موجودگی میں یتیم پوتا اپنے والد کے قائم مقام کی حیثیت سے دادا کے ترکہ کا وارث قرار پائے تو پھر اسی طرح نواسہ اپنی وفات یافتہ والدہ کے قائم مقام کی حیثیت سے اپنے نانا کے ترکہ سے حصہ پائے گا جو وراثت کے مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے یعنی نوا سے براہ راست نانا کی جائداد کے وارث نہیں ہو سکتے ان کا شمار ذوی الارحام میں ہے اور انہیں اسی وقت حصہ ملتا ہے جبکہ ذوی الفروض میں سے بھی (سوائے زوج یا زوجہ کے ) اور عصبات میں سے بھی کوئی موجود نہ ہو۔اس لئے یتیم پوتے کو اپنے باپ کے قائمقام ہو کر میراث حاصل کرنے سے نواسے نواسی کو بھی حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی والدہ کے حصے کے حقدار ہوں اور اس طرح وراثت کے مسلمہ اصولوں پر زد پڑتی ہے۔یتیم پوتے کی میراث کے حق میں دلائل اب ان دلائل کو پیش کیا جاتا ہے جن کی رو سے یتیم پوتا اپنے چچا کے ہوتے ہوئے دادا کے ترکہ میں حصہ دار سمجھا جاسکتا ہے۔ایسی کوئی بھی آیہ کریمہ یا حدیث نبوی موجود نہیں جس سے چا کی موجودگی میں اپنے دادا کے ترکہ سے یتیم پوتے کی محرومی واضح طور پر ثابت ہوتی ہو۔بلکہ اس کے برعکس قرآن پاک کی جتنی بھی آیات مسئلہ وراثت کی بنیاد ہیں ان سب میں پوتے کے وارث ہونے کا جواز موجود ہے۔اسلام نے وراثت کے تین اسباب بیان کئے ہیں۔حسب و نسب تعلق زوجیت تعلق ولاء