اسلام کا وراثتی نظام — Page 280
۲۸۰ ولد الملاعنہ اور ولد الحرام کی میراث کا بیان ولد الملاعنہ اس بچے کو کہتے ہیں جس کا حمل میں آنا تو اثنائے ازواج میں ہو لیکن اس کی ماں کے خاوند نے بچے کے والد ہونے سے انکار کیا ہو اور قرآن میں مذکور طریق کے مطابق با ہم لعنت کرنے کے بعد میاں بیوی علیحدہ ہو گئے ہوں۔ایسا بچہ والدہ کی جہت سے یعنی ماں کی طرف سے ترکہ میں وارث ہو گا اور والدہ ایسے بچے کی وارث ہو گی۔وہ اس مشکوک والد اور اس کے رشتہ داروں کا وارث نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ رشتہ دار اس کے وارث ہوتے ہیں۔ولد الحرام اس مشکوک بچے کو کہتے جس کا حمل اثنائے نکاح میں قرار نہ پایا ہو اور نہ ہی وہ اقرار سے جائز بچہ تسلیم کیا گیا ہو۔ایسے بچے کی وراثت بھی اس کی ماں فرضاً ورداً حاصل کرے گی اور اگر ماں موجود نہ ہو۔تو ماں کے ذوی الارحام اس کے وارث ہوں گے ولد الزنا کا اخیافی بھائی اس کا عصبہ نہ ہو گا۔البتہ مادری ( اخیافی ) جہت سے میراث حاصل ( بحوالہ کنز الفرائض صفحه ۱۰۱) کر سکے گا۔