اسلام کا وراثتی نظام — Page 20
۲۰ ہوا سے اُس کی میراث دینا وہ اس کا وارث ہوگا۔اور یہ حکم بنی اسرائیل کے لئے جیسا خداوند نے موسی کو فر ما یا واجبی فرض ہوگا۔“ (گنتی ۸-۱۱/ ۲۷) زمانہ جاہلیت میں بھی وراثت کی تقسیم کے کوئی خاص مستقل قسم کے قوانین نظر نہیں آتے البتہ یہ چند طریق بعض قبائل میں رائج تھے۔عرب میں کہیں کہیں مشتر کہ جائیداد کا رواج تھا۔یعنی ہر قسم کی جائیداد میں خاندان کے تمام مرد برابر کے حصے دار سمجھے جاتے تھے ہر شخص کی کمائی خاندانی ملکیت شمار ہوتی تھی اور کوئی فرد خاندانی جدی جائیداد کو اپنے لئے منتقل کرنے کا مجاز نہ تھا۔نرینہ اولاد پیدا ہوتے ہی مشترکہ خاندانی جائیداد میں برابر کی حصہ دار ہو جاتی تھی ، اس جائیداد کے حصہ دار صرف خاندانی مرد ہی ہوتے تھے۔عورتوں کا کوئی حصہ نہ ہوتا تھا۔۲۔کہیں یہ دستور تھا کہ باپ کی وفات کے بعد اس کا بڑا لڑکا ہی تمام جائیداد کا وارث ہوتا تھا۔دوسرے چھوٹے لڑکے خواہ وہ جوان بھی ہوں حصہ دار نہیں ہوتے تھے اور میت کی بیوی بیویاں اور لڑکیاں بھی سب محروم ہوتی تھیں اگر میت کی کوئی اولاد نرینہ نہ ہوتی تو پھر اس کے بھائی یعنی میت کے بچوں کے چچا اس کے وارث ہوتے تھے۔۔کہیں یہ دستور تھا کہ میت کا ترکہ خاندان کے اُن افراد ( ذکور ) میں برابر تقسیم کر دیا جا تا تھا جو عملی لحاظ سے جنگ میں حصہ لینے کے قابل ہوں۔ان میں میت کے بیٹے بھائی شامل ہوتے تھے۔اس طرح کمزور افراد یعنی کم سن بچے اور بچیاں اور بوڑھے ماں باپ محروم رہ جاتے تھے۔۴۔کہیں جائیداد کو عہد معاہدہ سے تقسیم کر دیا جاتا تھا۔دو اشخاص با ہمی اقرار کر لیتے تھے کہ وہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں برابر کے شریک ہوں گے۔ایک کا قرضہ، تاوان اور قتل دوسرے کا قرضہ، تاوان اور قتل شمار ہوگا۔جس کی ادائیگی کرنا یا بدلہ لینا زندہ رہنے والے ساتھی پر واجب ہوگا۔اور زندہ رہنے والا مرنے والی کی جائیداد کا وارث ہوگا۔اس طریق سے بھی میت کی تمام جائیداد اس کے ساتھی کو مل جاتی تھی اور اس کی اپنی اولا د اور قریبی رشتہ دار جائداد سے محروم رہ جاتے تھے۔اس معاہدے کی ایک اور شکل یہ بھی تھی کہ