اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 263 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 263

۲۶۳ قبل از وضع حمل ورثاء کے حصے زوجہ کا حصہ والدہ کا حصہ باقی = 1 + + + ) = 1/A = 1/4 = ۲۴ پوتی ولادت کے بعد ورثاء کے حصے زوجہ کا حصہ والدہ کا حصہ دو پوتیوں کا حصہ = 1/7 = = چونکہ حمل کو لڑ کا تصور کیا گیا ہے اس لئے وہ میت کا کوئی عصبہ موجود نہیں اس لئے باقی کا ترکہ بھی پوتا ہوگا اور پوتی اس کے ساتھ عصبہ قرار پائے گی۔اس لئے پوتے (حمل) کا محفوظ حصہ 11⁄4 = 1 × 1/1 = پوتی کا حصہ = x + = K ۷۲ انہی ذوی الفروض کو ماسوائے زوجہ کے رڈ کیا جائے گا۔لہذا ورثا کے کل حصے یہ ہوں گے۔زوجہ کا حصہ 1/A = باقی = 1 - = = Δ والدہ اور پوتیوں کے حصوں کا تناسب ۴:۱ = : + #: انہی ذوی الفروض کو ماسوائے زوجہ کے رڈ کیا جائے گا۔لہذا ورثا کے کل حصے یہ ہوں گے۔زوجہ کا حصہ 1/A = باقی =1 - + = والدہ اور پوتیوں کے حصوں کا تناسب نسبتی مجموعه ۴:۱= =: + 1 = 2 + 1 = پس والدہ کا حصہ = = d x = دو پوتیوں کا حصہ = ۷۸ × 5 = اور ہر ایک پوتی کا حصہ = ۱۴/۴۰ = یعنی اگر کل جائداد کے ۴۰ سہام کئے جائیں تو ۵ زوجہ کے، سات والدہ کے اور ۱۴ ہر پوتی کے ہوں گے۔یاد رکھئے کہ حمل کے لئے جو حصہ محفوظ رکھا جاتا ہے وہ صرف اسی صورت میں نوزائیدہ بچے یا بچوں کو ملتا ہے جب وہ زندہ پیدا ہوں اگر کوئی مردہ بچہ پیدا ہو یا حمل کے دوران اسقاط ہو جائے تو پھر اس کی خاطر محفوظ کیا گیا حصہ دوسرے ورثاء میں ان کے حصوں کے تناسب سے تقسیم کر دیا جاتا ہے۔