اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 259 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 259

۲۵۹ علم اور درایت اور فہم و فراست میں ائمہ ثلاثہ باقیہ سے افضل واعلیٰ تھے اور اُن کی خدا داد قوت فیصلہ ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ وہ ثبوت عدم ثبوت میں بخوبی فرق کرنا جانتے تھے اور ان کی قوت مدرکہ کو قرآن شریف کے سمجھنے میں ایک خاص دستگاہ تھی اور اُن کی فطرت کو کلام الہی سے ایک خاص مناسبت تھی اور عرفان کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ چکے تھے۔اسی وجہ سے اجتہاد و استنباط میں اُن کے لئے وہ درجہ علیا مسلم تھا۔جس تک پہنچنے سے دوسرے سب لوگ قاصر تھے۔“ حمل کا حصہ یہ معلوم ہو جانے کے بعد کہ ایسا حمل موجود ہے کہ پیدا ہونے پر اس بچے کا شمار ورثاء میں ہو گا۔دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ایسے حمل کے لئے ترکہ کا کس قدر حصہ محفوظ (Reserve) رکھا جائے۔حضرت امام ابو حنیفہ کے نزدیک حمل کے لئے چار بیٹوں یا چار بیٹیوں کے حصہ میں سے جو زیادہ ہو وہ محفوظ رکھا جائے۔حضرت امام محمد کے نزدیک تین بیٹوں یا تین بیٹیوں میں سے جو زیادہ ہو وہ محفوظ رکھا جائے۔دوسری روایت یہ ہے کہ دو بیٹوں کے برابر رکھ لیا جائے۔یہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں البتہ اس قدر احتیاط ضرور لازم ہے کہ جو کچھ بھی حمل کے لئے محفوظ رکھا جائے وہ زیادہ سے زیادہ حصہ ہو بلحاظ تعدا د و کمیت۔اور پھر بھی ممکن ہے کہ وہ کسی وجہ سے کم ہو جائے اس لئے ورثاء سے تحریر ضمانت لے لینی چاہئے کہ وہ اس کو اپنے حاصل کردہ حصوں سے پورا کر دیں گے۔اگر محفوظ کئے گئے حصہ میں سے کچھ بچ جائے تو اسے ورثاء میں اُن کے شرعی حصوں کے مطابق واپس لوٹا دیا جائے اسی طرح اگر کسی وقت یہ ثابت قانون الاحوال الشخصیة ۱۹۵۹ءعراق مجلة الاحوال الشخصية تیونس قانون الاحوال الشخصية شام