اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 258 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 258

۲۵۸ ، دو سال کے بعد پیدا ہونے والا بچہ نہ صحیح النسب تصور ہوگا اور نہ ہی ورثاء میں شمار ہو گا۔اسی طرح اگر ایک عورت عدت کے دوران یہ ظاہر کر دے کہ وہ حمل سے آزاد ہے تو اس کے بعد کسی وقت بھی اس کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہو وہ وارث نہیں ہوگا۔یہ یاد رہے کہ مدت حمل کے دو سال تک ممتد ہونے کے واقعات شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں۔بلکہ ایک حد تک ناممکن ہیں۔لیکن یہ عرصہ فقہا احناف نے محض اور محض احتیاط کی خاطر مانا ہے تاکہ بچے کو اپنے والد کی صحیح اولا د تسلیم کرایا جا سکے اور اس طرح حتی الامکان اسے ناجائز ولادت کے الزام سے بچا لیا جائے۔تاکہ اس کی زندگی اجیرن نہ ہو اور معاشرہ میں وہ ایک معزز مقام حاصل کر سکے۔غرض احتیاط کے اس پہلو کوحضرت امام ابو حنیفہ نے بطور خاص ملحوظ رکھا ہے حضرت امام ابو حنیفہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے استخراج مسائل قرآن میں ایک خاص مقام عطا فرمایا تھا۔وہ اپنی قوتِ اجتہاد، علم اور معرفت میں باقی تمام اماموں سے بلند اور فائق نظر آتے ہیں بلکہ بہت سے لوگ تو ان کے اعلیٰ مقام کو سمجھنے تک سے قاصر ہیں۔حضرت امام ابو حنیفہ کے مسلک فقہ کے بارہ میں حضرت میرزا غلام احمد قادیانی بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں:۔وہ ایک بحر اعظم تھا اور دوسرے سب اس کی شاخیں ہیں۔اس کا نام اہل الرائے رکھنا ایک بھاری خیانت ہے امام بزرگ حضرت ابو حنیفہ کو علاوہ کمالات علم آثار نبویہ کے استخراج مسائل قرآن میں یدطولیٰ تھا۔خدا تعالیٰ حضرت مجدد الف ثانی پر رحمت کرے۔انہوں نے مکتوب صفحہ ۳۰۷ میں فرمایا ہے کہ امام اعظم صاحب کی آنے والے مسیح کے ساتھ استخراج مسائل قرآن میں ایک روحانی مناسبت ہے۔“ (الحق مباحثہ لدھیانہ صفحہ ۱۰۱) اسی طرح آپ اپنی کتاب ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ ۵۳۰ -۵۳۱ پر فرماتے ہیں۔اصل حقیقت یہ ہے کہ امام صاحب موصوف اپنی قوت اجتہادی اور اپنے قانون المصری نمبر ۲۵ بابت ۱۹۲۹ء