اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 257 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 257

۲۵۷ تیونس : دفعہ اے: جب زوجہ عقد کے بعد چھ ماہ کے اختتام پر یا اس کے بعد بچہ جنے تو بچہ کا نسب شوہر سے ثابت ہوگا۔خواہ عقد صحیح ہو یا فاسد ہے شام: دفعه ۱۲۸ حمل کی کم سے کم مدت ۱۸۰ یوم ارزیادہ سے زیادہ ایک سال شمسی ہے سکے پاکستان : دفعه ۱۱۲ قانون شہادت ،۱۸۷۴ ( صحیح النسی کے بارے میں ) یہ واقعہ کہ کوئی شخص ( بچہ ) اپنی ماں کے کسی مرد کے جائز نکاح میں رہنے کی حالت میں یا اس نکاح کے انفساخ سے ۲۸۰ یوم کے اندر پیدا ہوا اور اس اثناء میں اس کی ماں بے زوج رہی۔اس امر کا قطعی ثبوت ہوگا کہ وہ شخص ( بچہ ) اس مرد کا صحیح النسب بیٹا ہے۔بجز اس صورت کے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ اس عرصہ میں زوجین کو کسی وقت بھی ایک دوسرے سے ملنے کا ایسا موقع نہ ملا تھا کہ حمل قرار پا سکتا۔“ حضرت امام ابو حنیفہ کا مسلک اور اُس کی مصلحت ماہرین طب کے نزدیک زیادہ سے زیادہ عرصہ حمل ۳۴۹ دن تک اور اسلامی ممالک کے قوانین میں یہ عرصہ ایک سال تک تسلیم کیا گیا ہے، لیکن حضرت ابو حنیفہ نے زیادہ سے زیادہ عرصہ حمل دو سال تک قرار دیا ہے۔اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اسلام صحیح النسمی کے لئے ہر امکانی صورت کو قبول کرتا ہے۔خواہ وہ کتنی ہی غیر معمولی ہو۔اس معاملہ میں اُسے اس سے بحث نہیں کہ حقیقت کیا ہے یہ مدنظر ہے کہ ایک انسان کی زندگی بچانے کے لئے زیادہ سے زیادہ قانونی امکان کیا ہے۔کیونکہ اس لچک میں بہت سے معاشرتی اور معاشی فوائد مضمر ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوحنیفہ نے بچہ کو صحیح النسب قرار دینے کی خاطر بعض بعید الوقوع اور نادر الوجود صورتوں کو بھی سامنے رکھا ہے اور محض احتیاط کی خاطر زیادہ سے زیادہ عرصہ حمل دو سال تک مانا ہے یعنی اگر ایک عورت اپنی عدت کے دوران یہ ظاہر کر دے کہ وہ حاملہ ہے اور اس کا بچہ دو سال کے اندر اندر پیدا ہو تو وہ صحیح النسب تصور ہوگا اور ترکہ کا بھی وارث ہوگا۔