اسلام کا وراثتی نظام — Page 256
۲۵۶ میں جب وہ مرا ہوا ہو۔نیز اکثر ایسے حالات سے جن میں عورت یہ دعویٰ کرے کہ اس نے ۲۸۰ دنوں سے کم یا اس سے زیادہ عرصہ میں بچہ جنا ہے یہی ظاہر ہوا کرتا ہے کہ اغلبا اس حاملہ عورت نے حساب لگانے میں غلطی کھائی ہے۔خواہ زیادتی کی طرف یا کمی کی طرف۔“ مندرجہ بالا حوالہ جات سے ثابت ہے کہ جہاں تک علم طب کا تعلق ہے۔زیادہ سے زیادہ عرصه حمل گیارہ ماہ پندرہ دن یعنی تقریباً ۳۴۹ دن ہے۔ممالک اسلامیہ میں مدت حمل کا تعین عرصہ حمل سے متعلق اسلامی ممالک میں جو قانون پائے جاتے ہیں۔اُن کے تحت کم سے کم عرصہ چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ ایک سال ہے۔اس بارہ میں چند ایک ممالک کے قوانین کے اقتباسات درج ذیل ہیں۔مصر: دفعه ۱۵ ( مرد کے ) انکار کی صورت میں بچے کے لئے نسب کا دعویٰ مسموع نہ ہو گا۔جبکہ زوجین کے درمیان وقت عقد سے ملاقات ثابت نہ ہو اور نہ اس صورت میں جبکہ عورت نے اس بچے کو شوہر کے غائب ہونے سے ایک سال بعد جنا ہو اور نہ مطلقہ کا بچہ (بصورت انکار ) شوہر کی طرف منسوب کیا جائے گا۔نہ اُس زوجہ کا بچہ جس کا شوہر مر چکا ہوا گر اس عورت نے طلاق یا وفات سے ایک سال کے بعد جنا ہوا عراق: دفعه ۵۱ ۲۹ ہر زوجہ کا بچہ حسب ذیل شرائط کے ساتھ اس کے شوہر کی طرف منسوب کیا جائے گا۔زوجین کے عقد کے بعد وضع حمل کم از کم چھ ماہ یا اس کے بعد ہوا ہو۔زوجین میں ملاقات کا امکان ہو۔بچے کا نسب ثابت نہ ہو گا۔مرد کے انکار کی صورت میں جبکہ زوجین کے درمیان ملاقات ثابت نہ ہو اور نہ اس بچے کا نسب ثابت ہو گا جس کو عورت نے شوہر کے غائب ہونے کے یا اس کی وفات کے یا تاریخ طلاق سے ایک سال بعد جنا ہو لے