اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 255 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 255

۲۵۵ months after the death or the depature of the mother's husband۔Fully developed children have been recorded as being born after the gestation lasting for considerably more than 300 days from the commencement of the last period۔In English and Scots law there is no legal limit to the length of pregnancy۔The longest periods of gestation ever admited in the law courts in Great Britain are 349, 346 and 331 days۔(page 110) الاسرة فی الشرع الاسلامی صفحه ۹۹ ( مصنفه عمر فروخ بیروت) سے اسی مضمون کا ایک اقتباس بھی پیش کیا جاتا ہے۔وہ لکھتے ہیں۔اَقَلُّ مُدَّةِ الْحَمْلِ طِبّيًّا فَهِيَ سُبْعَةُ أَشْهُرٍ كَامِلَةٍ وَلَكِنَّ الطَّفْلَ لا يَعيشُ حِينَئِذٍ إِلَّا إِذَا كَانَ وَزُنُهُ عِنْدَ وَلَادَتِهِ اَكْثَرَ مِنْ الْفِ وَخَمْسِمِائَةِ غَرَامٍ اَمَّا الْمُدَّةُ الْعَادِيَةُ فَهِيَ مَائَتَانِ وَ جَمَانُونَ يَوْمًا إِلَّا أَنَّ مَكْتَةَ فِى الرّحمِ إِذَا زَادَ عَلَى ٣٣٠ يَوْمًا فَإِنَّهُ يُسَبِّبُ مَوْتِهُ وَقَدْ يَتَّفِقُ أَنْ يَبْقَى الْجَنِينُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ سَنَةً اَوْاَكْثَرَ وَلَكِنَّهُ يَكُونُ عِنْدَئِذٍ مَيْتًا وَاَكْثَرُ الْأَحْوَالِ الَّتِي تَدَّعِى فِيهَا الْمَرْأَةُ أَنَّهَا وَلَدَتْ لَا قَل ۲۸۰ يَوْمًا أَوْلَا كُثَرِ مِنْ ذَالِكَ رَاجِعٌ فِي الْأَغْلَبِ إِلَى خَطَهِ الْحَامِلِ فِي الْحِسَابِ زِيَادَةً اَوْنُقْصَانًا۔طب کی رو سے حمل کی کم از کم مدت پورے سات ماہ ہے لیکن اس صورت میں بچہ زندہ نہیں رہتا۔سوائے اس کے کہ ولادت کے وقت اس کا وزن ۱۵۰۰ گرام سے زیادہ۔بالعموم یہ مدت ۲۸۰ دن ہوتی ہے، لیکن ممکن ہے کہ کوئی بچہ ۳۳۰ دنوں تک رحم میں رہ جائے۔البتہ اگر رحم میں اس کا قیام ۳۳۰ دن سے بڑھ جائے تو یہ امر اس کی موت کا باعث بن جاتا ہے کبھی کبھی ایسا اتفاق بھی ہو جاتا ہے کہ بچہ ایک سال تک یا اس سے بھی زیادہ اپنی ماں کے پیٹ میں رہے، لیکن اسی صورت