اسلام کا وراثتی نظام — Page 254
۲۵۴۔ii وَفِصْلُهُ فِي عَامَيْنِ۔اور دودھ چھڑانے کا عرصہ چوبیس ماہ یعنی دو سال تک ہے۔“ اس لحاظ سے حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ بنتی ہے۔66 ( سورة لقمان آیت (۱۵) زیادہ سے زیادہ مدت حمل کے تقرر کی غرض و غایت اور وجوہات ذہن نشین کرنے کے لئے ضروری ہے کہ قوانین طب، اسلامی ممالک کے قوانین اور حضرت امام ابو حنیفہ کی رائے کو بالتفصیل بیان کیا جائے۔طب کی رو سے مدت حمل کا عرصہ زیادہ سے زیادہ گیارہ ماہ قرار دیا گیا ہے لیکن دسویں اور گیارہویں مہینوں پیدا ہونے والے بچے شاذ و نادر ہی زندہ پیدا ہوتے ہیں۔یا زندہ بچتے ہیں۔کیونکہ ان کی پیدائش عمومی مدت حمل کے بعد (Post-Mature) ہوتی ہے۔جس کے نتیجہ میں ان بچوں میں غیر معمولی خصوصیات (Abnormalities) پائی جاتی ہیں۔مثلاً ان کا وزن قد یا سر کا حجم عام نو زائیدہ بچوں کی نسبت زیادہ بڑا ہوتا ہے۔ایک مشہور و معروف اور اعلیٰ پایہ کے طبیب شیخ بوعلی سینا نے جنہیں سائنسدان موجد طب (Father of Medicine) کے نام سے یاد کرتے ہیں اپنی کتاب "القانون فی الطب" میں لکھا ہے کہ قرار حمل کے بعد عام طور پر اور اکثر 9 ماہ کی مدت میں وضع حمل ہوتا ہے کم سے کم سات ماہ اور زیادہ سے ( جلد دوم صفحه ۵۷۰ مطبوعه مصر ) موجودہ طب (Medicine) میں بھی عام حالات میں مدت حمل ۲۶۵ دن کے قریب تسلیم کی گئی ہے اور زیادہ سے زیادہ ۳۰۰ دن۔برطانوی عدالت میں سب سے زیادہ لمبا عرصه حمل ۳۴۹ دن تک بھی مانا گیا ہے۔ملا حظہ ہو۔زیادہ ۱۰ ماہ ہیں۔جس میں لکھا ہے کہ A text book of Midwifery by Johnston and Keller۔Modern scientific evidence, therefore, indicates that in women the duration of pregnancy, i۔e۔, the conception -- delivery interval, is nearer 265 days than 273۔(page 108) The medico-legal bearings of the subject lie in relation to the question of the legitmacy of children born more than nine