اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 241 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 241

باقی ۲۴۱ (+) - 1 = ۳ + ۲ -1 = = ۱۲ یہ ۱۲/ ۷ حصہ دو بیٹوں اور ایک بیٹی میں ۱:۲ سے تقسیم ہو گا۔ہر بیٹے کا بیٹی کا حصہ = متوفی بیٹے کا قابل تقسیم حصہ = ۷/۳۰ ہے اور ورثاء اس کی بیوی، بیٹی اور والد ہیں۔بھائی۔بہن اور نانی محروم رہیں گے۔کیونکہ متوفی کی اولا دموجود ہے۔اس لئے متوفی کی بیوی کا حصہ اور بیٹی کا حصہ = 11/17 = 1 × 1/1 L اور والد کا حصہ = باقی کا تمام تر کہ ۷ = = ۲۸-۷-۵۶ ۲۴۰ آخری طور پر کل حصے یہ ہوں گے۔1/4 = = + + = ۷/۳۰ والدہ کا حصہ خاوند کا حصہ موجود بیٹے کا حصہ = (4 متوفی بیٹے کی بیوی ( بہو ) کا حصہ متوفی بیٹے کی بیٹی (متوفیہ کی پوتی ) کا حصہ = ۴۰ خاوند کو ۸۱، بیٹے کو ۵۶ ، بیٹی کو ۱۸ یعنی اگر جائداد کے ۲۴۰ سہام کئے جائیں تو والد کو بیٹے کی بیوی کوے، بیٹے کی بیٹی (پوتی) کو ۲۸ سہام ملیں گے۔مثال نمبر ۳ : ایک میت نے زوجہ، دو بیٹیاں، اور ایک بھائی وارث چھوڑے قبل تقسیم تر کہ ایک بیٹی اپنے تین بیٹے دو بیٹیاں اور خاوند چھوڑ کر فوت ہو گئی ان کے علاوہ اس کا ایک چچا بھی موجود ہے۔میت کے ترکہ میں ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔