اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 238 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 238

۲۳۸ باب دہم مناسخہ یعنی میراث وابستہ کا بیان مناسخہ سخ سے ہے جس کے معنی نقل کرنے کے ہیں اور وراثتی اصطلاح میں یہ لفظ بمعنی انتقال و تحویل استعمال ہوتا ہے۔یعنی اگر کوئی وارث قبل تقسیم ترکہ فوت ہو جائے تو دوسرے متوفی کے ورثاء کو براہ راست پہلے متوفی کے رشتہ داروں میں شمار کر کے ان سب کے درمیان ( متوفی اول) کا ترکہ تقسیم نہیں کیا جاتا۔(سوائے کسی مخصوص صورت کے جس کا ذکر آگے آئے گا ) بلکہ پہلے مورث (متوفی دوم) کو زندہ تصور کر کے متوفی اول کا ترکہ تقسیم کر دیا جاتا ہے اور پھر متوفی دوم کا حصہ اس کے وارثوں کی طرف منتقل کیا جاتا ہے۔یا یوں سمجھ لیجئے کہ متوفی دوم کے ورثاء براہ راست متوفی اوّل کے وارث قرار نہیں پاتے بلکہ متوفی دوم کے قائم مقام بن کر متوفی اول کے ترکہ میں شریک ہوتے ہیں۔اور اسے مناسخہ کہا جاتا مثلاً ایک شخص عبدالرحیم فوت ہوا جس کے وارث اس کے بیٹے عبدالکریم اور ہے۔عبدالرحمن ہیں جو اس کے ترکہ میں برابر کے شریک ہیں۔لیکن ابھی ان کے درمیان ترکہ تقسیم نہ ہوا تھا کہ عبدالکریم بھی فوت ہو گیا۔اب عبدالرحیم کا ترکہ عبد الرحمن اور عبد الکریم کے ورثاء کے درمیان تقسیم نہیں ہو گا۔بلکہ اب یہ ترکہ پہلے عبد الکریم کو زندہ تصور کر کے اس کے اور عبدالرحمن کے درمیان برابر تقسیم ہو گا۔اس طرح عبد الکریم کو جائداد کا نصف حصہ ملے گا اور پھر یہ نصف حصہ عبد الکریم کے ورثاء کے مابین تقسیم ہو گا۔اب اگر ایسا نہ کیا جائے یعنی مناسخہ کا طریق اختیار نہ کیا جائے تو بعض صورتوں میں ورثاء کے حصوں میں نہایت ہی ناواجب فرق پڑ جاتا ہے۔مثلاً اگر زیر نظر مثال میں ہی عبد الکریم کے فوت ہونے پر (جس نے فرض کرو دو بیٹے چھوڑے ہوں ) عبدالکریم کا ترکہ اس کی زندہ اولاد میں ہی تقسیم کیا جائے تو تمام ترکہ عبدالرحمن کو ہی مل جائے گا اور عبدالکریم کے دونوں بیٹے محروم رہ جائیں گے اور یہ کسی طرح بھی جائز نہیں۔کہ تقسیم ترکہ میں دیر ہو جانے سے کسی ایسے وارث کو محروم کر دیا جائے جسے بر وقت ترکہ کی تقسیم ہونے کی صورت میں برابر حصہ ملنا تھا۔البتہ بعض مخصوص صورتوں میں جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا ہے مناسخہ کا طریق استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔