اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 235 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 235

۲۳۵ سرو کار نہیں ہو گا۔دوسرے ورثاء بھی اس پر رضامند ہیں والدہ اور بھتیجے کا حصہ بتا ئیں۔پہلا طریقہ : بیوی کا مقررہ حصہ = 1/8 والدہ کا مقررہ حصہ = 1/F بھتیجے کا مقررہ حصہ = ۵/۱۲ ۱۲۰۰۰ روپے میں بیوی کا حصہ = ۱۲۰۰۰ × ۱/۴ = ۳۰۰۰ روپے والدہ کا حصہ ۱۲۰۰۰ × ۱/۳ = ۴۰۰۰ روپے بھتیجے کا حصہ = ۱۲۰۰۰ × ۵/۱۲ = ۵۰۰۰ روپے بیوی نے ۲۰۰۰ روپے کے بدلے اپنے حق سے دستبرداری اختیار کی اس لئے اس کے حصے سے بچی ہوئی رقم یعنی ۳۰۰۰ - ۲۰۰۰ - ۱۰۰۰ روپے والدہ اور بھتیجے میں ان کے حصوں کے تناسب سے تقسیم کی جائے گی۔یعنی ۴ : ۵ سے لہذا ۱۰۰۰ روپے میں والدہ کا حصہ = ۴ = = ۲ ۲۴۴ روپے ۱۰۰۰ روپے میں بھتیجے کا حصہ پس والدہ کا کل حصہ بھتیجے کا حصہ - ۵ × ۱۰۰۰ ۵ ۵۰۰ = ۲ ۵۵۵ روپے = ۴۴۴ ۴ + ۴۰۰۰ + ۵۰۰۰ = || ۹ ۹ ۴۴۴۴ روپے ۵۵۵ = ۴ ۵۵۵۵ رو - روپے ۹ دوسرا طریقہ: حصے معلوم کرنے کے بعد بیوی کو معدوم سمجھیں اور باقی ترکہ یعنی ۱۰,۰۰۰ روپے والدہ اور بھتیجے کے درمیان اُن کے مقررہ حصوں کے تناسب : ۵:۴ سے تقسیم کریں۔تو والدہ کا حصہ بھتیجے کا حصہ = = ۵/۹ × ۱۰۰۰۰ = = ۱۲ ۴ = ۹ ۴۴۴۴ روپے ۵۵۵۵ رو روپے