اسلام کا وراثتی نظام — Page 228
۲۲۸ یعنی اگر جائداد کے چار حصے کئے جائیں تو ہر ایک کو ایک ایک حصہ دیا جائے گا۔مثال نمبر 11 ایک میت نے خاوند اور نواسہ چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔خاوند کا حصہ باقی ١/٢ = ١/٢ = یہ نواسہ کو مل جائے گا کیونکہ خاوند کو باقی جائداد بذریعہ رڈ نہیں مل سکتی زوج یا زوجہ ا گر چه ذوی الفروض ہیں۔لیکن ان کے ہوتے ہوئے بھی ذوی الارحام کو میراث پہنچتی۔ہے۔مسئلہ رڈ کے سوالات کو بعض مصنفین نے اس طریق سے بھی حل کیا ہے کہ تمام موجود ذوی الفروض کے حصے لکھ دیئے اور ان کو جمع کیا۔رڈ میں نسب نما شمار کنندہ سے بڑا ہوتا ہے اس لئے نسب نما کو شمار کنندہ کے برابر کر دو۔( یعنی نسب نما کو اتنا کم کر دو کہ شمار کنندہ کے برابر ہو جائے ) اس نئے نسب نما کو لے کر اس پر الگ الگ ضمنی شمار کنندگان لکھ دو۔ورثا کے مکمل حصوں کی مقدار میں حاصل ہو جائیں گی مثلاً :- فرض کیجئے کہ ایک میت نے بیٹی ، پوتی اور والدہ وارث چھوڑے اور ہم نے ان کے حصے معلوم کرنے ہیں اب۔بیٹی کا حصہ پوتی کا حصہ والدہ کا حصہ ان حصوں کا مجموعہ = ۱/۲ = 1/4 = 1/4 = = 1+1+1 = ++ + + + یہاں نسب نما ۶ ہے اور شمار کننده ۵۔نسب نما کو شمار کنندہ کے برابر کر دو۔تو پھر علی الترتیب مکمل حصے یہ ہوں گے۔۱/۵ ، ۱/۵ ، ۳/۵ پہلا طریق زیادہ آسان ہے یعنی ذوی الفروض کے مقررہ حصوں کے تناسب سے کل جائداد تقسیم کر دی جائے۔اگر زوج یا زوجہ زندہ ہو تو اس کا شرعی حصہ نکالنے کے بعد باقی ترکہ کو دوسرے ذوی الفروض میں ان کے حصوں کے تناسب سے تقسیم کریں۔اس لئے رڈ کے تمام سوالات پہلے طریق سے ہی حل کرنے چاہئیں۔