اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 222 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 222

۲۲۲ ۳۔مسئلہ رو بعض حالات میں ذوی الفروض کو ان کے شرعی حصے دینے کے بعد کچھ ترکہ بیچ رہتا ہے اور عصبہ کوئی بھی موجود نہیں ہوتا۔اس صورت میں باقی ماندہ تر کہ بھی ذوی الفروض میں ہی تقسیم کر دیا جاتا ہے یہ عمل وراثتی اصطلاح میں ”رڈ“ کہلاتا ہے۔جس کے لغوی معنے لوٹانے، گویا ردّ عول کی ضد ہے عول کا عمل اس وقت ہوگا جب مفروضہ حصوں کا مجموعہ مخرج ( یعنی اکائی) سے بڑھ جائے اور رڈ کے عمل کی اس وقت ضرورت پیش آتی ہے جب یہ مجموعہ اکائی سے کم رہ جائے۔رڈ کے مال میں سے زوجین (میاں، بیوی) کو کچھ نہیں دیا جاتا۔یہ امر سیدنا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دوسرے اکابر صحابہ کرام کے اقوال سے ثابت ہے اور علماء احناف کا بھی یہی مسلک ہے اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ خاوند اور بیوی نسبی رشتہ دار نہیں بلکہ ان کا رشتہ انسان کا خود پیدا کردہ ہے اس لئے نسبی رشتہ کو اس پر ترجیح حاصل ہے۔لہذا میاں بیوی کو مقررہ حصہ ہی ملتا ہے۔اور رڈ کا مال صرف نسبی ذوی الفروض کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے یہ نسبی ذوی الفروض سات ہیں۔والده، د ۲۔جدہ، ۳۔بیٹی، ۴۔پوتی حقیقی بہن،۔علاقی بہن ے۔اخیافی بہن اور بھائی والد کا شمار ذوی الفروض کے علاوہ عصبہ میں بھی ہے لہذا والد کے ہوتے ہوئے رو کی صورت پیش نہیں آتی۔کیونکہ تمام بچا ہوا مال والد حاصل کر لیتا ہے۔اگر صرف زوج یا زوجہ وارث ہوں تو فقہاء احناف کے نزدیک ان کو ان کے شرعی حصے دینے کے بعد باقی کا ترکہ بیت المال میں داخل کروا دینا چاہئے۔ہاں اگر بیت المال کا خاطر خواہ انتظام نہ ہو تو پھر باقی ماندہ تر کہ زوجین پر رڈ ہو گا۔مسئلہ رڈ کے بارہ میں جماعت احمدیہ کا بھی یہی مسلک ہے! حضرت زید بن ثابت کی رائے یہ ہے کہ باقی ماندہ تر کہ کسی صورت میں بھی ذوی