اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 212 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 212

۲۱۲ اس کی تعبیر دین سے لی ہے۔۲ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ اذْرَأَيْتُ قَدْحًا اُتِيْتُ بِهِ فِيْهِ لَبَنٌ فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى أَنِّي لَارَى الرَّيَّ يَجْرِى فِى أَظْفَارِى ثُمَّ اَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالُوا انَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَارَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْعِلْمُ ( صحیح مسلم کتاب فضائل صحابه ) ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سو رہا تھا کہ مجھے دودھ کا پیالہ دیا گیا میں نے اس دودھ میں سے کچھ پیا جس کا اثر میں نے اپنے ناخنوں تک محسوس کیا پھر میں نے بچا ہوا دودھ عمر بن ا الخطاب کو دے دیا۔صحابہ نے پوچھا اس خواب کی تعبیر آپ نے کیا لی ہے۔آپ نے فرمایا ! علم ہے یہ دو احادیث صرف اس لئے نقل کی ہیں تا ہمیں حضرت عمر فاروق کی علمی شخصیت اور فقہی اور دینی مسائل کو سمجھنے کی اہلیت کے بارے میں علم ہو جائے۔اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان خوبیوں سے کس قدر متصف فرمایا تھا۔مسئلہ عول ان کا ایک عظیم الشان علمی حسابی کارنامہ ہے جس کے ذریعہ تمام ذوی الفروض کو حصوں کے تناسب سے ترکہ پہنچ جاتا ہے اور کوئی بھی محروم نہیں رہتا۔سو تقسیم ترکہ کر کے ایسے سوالات جن میں وارثوں کے حصوں کا مجموعہ اکائی سے بڑھ جائے یعنی مسئلہ عول کو بروئی کا رلانے کی ضرورت ہو تو حسب ذیل دو طریقوں سے ترکہ تقسیم کیا جا سکتا ہے۔الف۔مفروضہ حصوں کے نسب نما کو بڑھا کر ان حصوں کے مجموعہ کے شمار کنندہ کے برابر کر دیں پھر ضمنی شمار کنندگان کے مطابق ورثاء کے حصے متعین کریں۔یا اہل عبارت ( تعبیر ) کا قول ہے کہ قمیض کا خواب میں دیکھنا دین سے مراد ہوتا ہے اور اس کا گھسٹینا آثار جمیلہ اور سنن حسنہ کی بقا سے مراد ہے (نووی دوم صفحه ۲۷۴) کے دودھ کو خواب میں دیکھنا علم سے مراد ہے جیسے دودھ بچوں کی غذا اور ان کی تندرستی کا سبب ہے۔اسی طرح علم صلاح آخرت اور دنیا کا سبب ہے۔(نووی دوم صفحہ ۲۷۴)