اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 210 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 210

۲۱۰ عول عول کے لغوی معنے نقصان کے ہیں۔یعنی ایک طرف سے حصے کاٹ کر دوسری طرف منتقل کرنا۔تقسیم ترکہ کے وقت بعض دفعہ ذوی الفروض اتنی تعداد میں موجود ہوتے ہیں کہ ان کے حصوں کا مجموعہ اکائی سے بڑھ جاتا ہے۔ایسے حالات میں تمام ورثاء کو ان کے پورے حصے نہیں مل سکتے اور تقسیم میں مشکل پیش آتی ہے کیونکہ کسی بھی ذوی الفروض کو اس کے حصے سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔اس مشکل کو سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس حسابی طریق سے حل فرمایا وہ عول کہلاتا ہے۔اور اسے ایک مثال کے ذریعے واضح کیا جاتا ہے۔مثال : ایک میت نے خاوند ، دو اخیافی بہنیں اور دو حقیقی بہنیں وارث چھوڑیں ترکہ میں ہر ایک کا حصہ بتائیے۔یہ تینوں قسم کے ورثاء ذوی الفروض میں شامل ہیں اور ان کے حصے بالترتیب ۱/۲، ۱/۳ ۴+۲+ = = = 2 بن جاتا ہے +۲+ لکھا اور ۲/۳ ہیں جن کا مجموعی + + + + یعنی مفروضہ حصوں کا مجموعہ ترکہ کی اکائی (یعنی کل ترکہ) سے بڑھ جاتا ہے اور ورثاء کو ان کے پورے حصے نہیں ملتے اس کا حل یہ ہے کہ مفروضہ حصوں کو ان کی اپنی نسبت سے اتنا اتنا گھٹایا جاوے کہ ان کا مجموعہ ایک کے برابر ہو جائے جس کا آسان طریق یہ ہے کہ اصل حصوں کے مجموعہ (۹/۶) کے نسب نما (Denominator) ۶ کو بڑھا کر شمار کنندہ (Numerator) کے برابر کر دیں اس طرح حصوں کا مجموعہ جاتا ہے یعنی ذوی الفروض کے حصے علی الترتیب ۱/۲ ، ۱/۳ اور ۲/۳ کی بجائے ۳/۹، ۲/۹ اور ۴/۹ رہ جاتے ہیں۔ان حصوں میں وہی نسبت قائم رہتی ہے جو کہ اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہے اور کوئی بھی ذوی الفروض محروم نہیں رہتا بلکہ ہر فر دحصہ رسدی اپنا مفروضہ حصہ حاصل کر لیتا ہے۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ طریق تقسیم یعنی عول شرعاً جائز ہے؟ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی سنت اور احادیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی وقت اس طرح بھی ترکہ تقسیم کیا