اسلام کا وراثتی نظام — Page 204
۲۰۴ جواب: ہرا خیافی بھانجے یا بھانجی کا حصہ ہر حقیقی بھانجے کا حصہ حقیقی بھانجی کا حصہ = 1/10 ۴/۱۵ ۲/۱۵ = ۱۳۔ایک میت نے زوجہ ، دو حقیقی بھانجیاں اور ایک علاقی بھیجی وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔جواب : زوجہ کا حصہ علاقی بھتیجی کا حصہ = ۱/۴ ہر بھانجی کا حصہ = ۱/۳ اور 1/15 = ۱۴۔ایک میت نے حقیقی بھائی کی ۲ بیٹیاں، حقیقی بہن کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا ، علاقی بھائی کی دو بیٹیاں، علاتی بہن کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا، اخیافی بہن کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا اور اخیافی بھائی کا ایک بیٹا اور بیٹی وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔جواب: حقیقی بھائی کی ہر بیٹی کا حصہ = ۲/۹ حقیقی بہن کی بیٹی کا حصہ = ۲/۲۷ حقیقی بہن کے بیٹے کا حصہ = ۴/۲۷ علاتی بھائی کی بیٹیاں اور بیٹے محروم علاقی بہن کے بیٹے اور بیٹیاں مرحوم ہرا خیافی بھیجے بھتیجی ، بھانجی اور بھانجے کا حصہ 1/15 امام ابو یوسف کے اصول کے لحاظ سے صرف حقیقی بھائی کی بیٹیاں اور حقیقی بہن کی اولا د وارث ہو گی اور ان کے حصے بالترتیب ۱/۵ ،۱/۵، ۲/۵ اور ۱/۵ ہوں گے۔۱۵۔ایک میت نے ایک حقیقی پھوپھی، ایک علاتی پھوپھی ، ایک حقیقی ماموں ایک علاتی ماموں اور ایک حقیقی خالہ وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔جواب: حقیقی پھوپھی کا حصہ حقیقی ماموں کا حصہ حقیقی خالہ کا حصہ = ۲/۳ علاقی پھوپھی محروم ۲/۹ علاقی ماموں محروم = 1/9 ایک میت نے ایک علاتی پھوپھی ، دو اخیافی چا اور ایک اخیافی پھوپھی اور ایک حقیقی خالہ وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔جواب: علاقی پھوپھی کا حصہ = ۲/۳ اخیافی چچا محروم