اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 201 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 201

درجہ چہارم کی تیسری قسم تیسری قسم میں متوفی کے والدین کے اعمام اور عمات شامل ہیں یعنی والد کی طرف سے اس (یعنی والد ) کی حقیقی علاتی اور اخیافی پھوپھیاں، اخیافی چا، حقیقی علاقی اور اخیافی ماموں اور حقیقی علاتی اور اخیافی خالائیں اور والدہ کی طرف سے اس (یعنی والدہ) کی حقیقی ، علاقی و اخیافی پھوپھیاں ، اخیافی چچا اور حقیقی ، علاتی ، اخیافی ماموں اور خالائیں۔ان کے درمیان ترکہ کی تقسیم بینہ درجہ چہارم کی قسم اول کی طرح ہوتی ہے۔نیز انہیں اسی وقت حصہ مل سکتا ہے جب قسم اول اور دوم کا کوئی بھی وارث موجود نہ ہو۔درجہ چہارم کی چوتھی قسم اس قسم میں متوفی کے والدین کے اعمام اور عمات کی وہ اولا د شامل ہے (خواہ وہ کتنے ہی نیچے درجہ کی ہو ) جو عصبات میں شامل نہ ہو۔ان کے لئے طریقہ تقسیم بھی بالکل وہی ہے جو درجہ چہارم قسم نمبر ۲ کے لئے ہے، لیکن عموماً کسی متوفی کے اتنے دور کے ورثا کو میراث سے حصہ دینے کا موقعہ ہی پیدا نہیں ہوتا۔کیونکہ تمام تر کہ ان سے زیادہ قریبی رشتہ داروں میں ہی تقسیم ہو چکا ہوتا ہے۔اس لئے ان کے متعلق کسی تفصیل کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔