اسلام کا وراثتی نظام — Page 200
حقیقی پھوپھی بیٹا اس میں پہلی ہی پشت میں اختلاف جنس ہے اور حقیقی چا کی اولاد میں دو دعویدار ہیں۔اس لئے وہ دو مرد یعنی چار عورتیں شمار ہو گا۔حقیقی پھوپھی کی اولاد میں صرف ایک دعویدار ہے اس لئے وہ ایک عورت شمار ہوگی اس لئے جائداد پانچ حصوں میں تقسیم ہو گا چار حصے حقیقی چا اور ایک حصہ حقیقی پھوپھی کو ملے گا۔حقیقی چچا کا حصہ (۴/۵) اس کی دو اولا دوں بیٹا ، بیٹی یعنی موجودہ دعویداروں ) میں تقسیم ہو گا۔اس لئے حقیقی چچا کے بیٹے کی بیٹی کے بیٹے کا حصہ حقیقی چا کے بیٹے کی بیٹی کی بیٹی کا حصہ = - = x حقیقی پھوپھی کا حصہ (۱/۵) اس کی بیٹی کے بیٹے کی بیٹی کو مل جائے گا۔امام ابو یوسف کے مطابق یہ حصے بالترتیب ۱/۲ ۱/۴ اور ۱/۴ ہوں گے۔یه نقشه اسی طریق سے اگلی نسلوں تک لے جایا سکتا ہے اور اسی طریق سے اُن کے حصے مقرر کئے جاتے ہیں۔لیکن چونکہ عملاً اس کی ضرورت نہیں پڑتی۔اس لئے ان کے متعلق بحث نہیں کی گئی۔(اگلے ) صفحہ پر اعمام اور عمات کی تین پشت تک کی اولاد یکجائی طور پر دکھائی گئی ہے۔تا ایک ہی نظر میں یہ معلوم ہو سکے کہ ان میں سے کون کون بطور ذوی الارحام حصہ پانے کے مستحق ہیں۔اور کون کون عصبات میں شامل ہونے کی وجہ سے ذوی الارحام میں شمار نہیں ہوتے۔بلکہ بطور عصبہ حصہ پاتے ہیں اور ان (عصبات) کی موجودگی کن ذوی الا رحام کو وراثت سے محروم کر دیتی ہے۔