اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 187 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 187

IAZ = =* X 2 222- 2 = + x + = ہر حقیقی بھانجے کا حصہ ہر حقیقی بھانجی کا حصہ ہر علاقی بھتیجی کا حصہ یعنی جائداد کے کل ۷۲ سہام کئے جائیں گے اور ۹ ہر بیوی کے ، ۱۶ ہر حقیقی بھانجے کے ، ۸ ہر حقیقی بھانجی کے اور ۳ ہر علاقی بھیجی کے ہوں گے۔مثال نمبر ۶ : ایک میت نے حقیقی بھتیجی، حقیقی بھانجا اور حقیقی بھانجی ، علاتی بھیجی اور علاقی بہن کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ، اخیافی بھائی کی ایک بیٹی اور اخیافی بہن کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔قیقی بھائی حقیقی ہے لائی ہائی لاتی ہے ایمانی بائی اصل حقیقی بھا حقیقی بہن علاقی بھائی علاتی بہن اخیافی بھائی اخیافی بہن بیٹا بیٹی بیٹی بیٹا بیٹی بیٹی بیٹا بینی اولاد بینی (۱/۳) (۲/۹) (۱/۹) (محجوب) (محجوب) (1/4) (1/9) (1/4) پہلے ہم ہر اصل کو زندہ تصور کر کے اُن کے حصے دیں گے۔حقیقی بہن بھائیوں کی موجودگی میں علاتی بہن بھائی محروم ہوتے ہیں اس لئے ان کی اولادیں بھی محروم ہوں گی۔اخیافی زمرے کے تین دعویدار ہیں اس لئے ان کا مجموعی حصہ ۱/۳ ہوگا جو ان کی اولا دوں میں بلا تمیز تذکیر و تانیث مساوی طور پر تقسیم ہو گا۔اس لئے ہر ایک کا حصہ ۱/۹ ہوگا۔باقی یعنی ۱ - ۱/۳ - ۲/۳ حصہ حقیقی بھائی اور بہن کو بطور عصبہ کے ملے گا = اور ان کی اولادوں میں تقسیم ہو گا۔اب حقیقی بھائی کی صرف ایک اولاد ہے اس لئے یہ ایک مرد یا دو عورتیں تصور ہوگا۔اور حقیقی بہن کی دو اولادیں ہیں اس لئے یہ بہن دوعورتیں تصور ہوگی۔