اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 186 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 186

۱۸۶ چونکہ اصل میں حقیقی بھائی کوئی نہیں۔اس لئے یہاں علاتی بھائی عصبہ ہوگا۔اخیافی زمرہ میں دو اولادیں ہیں اس لئے یہ دو بہن بھائی تصور ہوں گے اور ان کے مجموعی حصہ ۱/۳ ہوگا جو ان کی اولاد میں برابر برابر تقسیم ہو گا۔اس لئے ہر ایک دعویدار کو ١/٦ حصہ ملے گا۔حقیقی بہن کی اولا دصرف ایک ہے اس لئے اس کا حصہ ۱/۲ ہو گا۔جو اس کے بیٹے کو ملے گا۔علاقی بھائی عصبہ ہے اس لئے باقی جائداد یعنی = 1 - + + + ) = + حصہ حاصل کرے گا۔جو اس کی اولاد ( بیٹی ) کو ملے گا۔) لہذا اخیافی بھتیجی کا حصہ اخیافی بھانجی کا حصہ حقیقی بھانجے کا حصہ علاقی بھتیجی کا حصہ 1/4 = = = = 1/4 ۱/۲ 1/4 نوٹ : امام ابو یوسف کی رائے کے مطابق اخیافی اور علاتی بہن بھائیوں کی اولاد حقیقی بہن بھائیوں کی اولاد کے سامنے محروم ہوتی ہے اس لئے ساری جائداد حقیقی بھانجے کومل جائے گی۔ایک میت نے دو بیویاں، دو حقیقی بھانجے، دو حقیقی بھانجیاں اور دو علاتی بھتیجیاں مثال نمبر ۵ : وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔دو بیویوں کا حصہ = ہر ایک کا حصہ = حقیقی بہن کی اولاد کا حصہ 1/ باقی = = ۲/۳ ( کیونکہ اس کی چار اولادیں ہیں اور یہ بہن چار بہنوں کے برابر تصور ہوگی۔) ا - + + ) = + 1 ۱۲ یہ ۱/۱۲ حصہ علاتی بھائی ( عصبہ ) کی اولا د یعنی اس کی دو بیٹیوں میں برابر برابر تقسیم ہوگا۔پس ہر ایک بیوی کا حصہ =