اسلام کا وراثتی نظام — Page 182
۱۸۲ الف حقیقی بھائیوں کی سب بیٹیاں اپنے ”اصل“ کے مجموعی حصہ میں برابر کی شریک ہوں گی اسی طرح علاقی بھائیوں کی تمام بیٹیاں اپنے اصل کے مجموعی حصہ میں برابر کی حصہ دار ہوں گی۔حقیقی بہنوں کا مجموعی حصہ ان سب کی اولاد میں اور علاقی بہنوں کا مجموعی حصہ ان کی تمام اولاد میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ ہر مرد کو دو حصے اور ہر عورت کو ایک حصہ ملے۔ج۔اخیافی بہن بھائیوں کی اولاد میں اپنے ”اصل‘ کے حصہ میں برابر کی شریک ہوتی ہیں۔خواہ مرد ہوں یا عورتیں۔امام ابو یوسف موصوف کی رائے میں یہاں بھی دعویداروں کی تذکیر و تانیث کے لحاظ سے تقسیم ہونی چاہئے یعنی ہر مرد کو عورت سے دُگنا ملے۔اب ان تمام امور کو بذریعہ امثال واضح کیا جاتا ہے۔مثال نمبر 1: ایک میت نے اپنے پیچھے تین بھتیجیاں ، ایک بھانجا اور دو بھانجیاں وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔بہن تین بیٹیاں بیٹا بھائی کے توسط سے تین دعویدار ہیں۔دو بیٹیاں اس لئے بھائی تین مرد یعنی 4 عورتیں تصور ہوگا۔بہن کے توسط سے بھی تین دعویدار ہیں اس لئے بہن تین عورتیں تصور ہوگی۔اس لئے کل 9 حصے متصور ہوں گے جن میں سے بھائی کا حصہ ۶/۹ ہوگا۔اور بہن کا حصہ ۳/۹