اسلام کا وراثتی نظام — Page 168
۱۶۸ دعویداروں کے حصہ میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔لیکن اگر مختلف الجنس ہیں تو پھر نمایاں فرق پڑ جاتا ہے۔اب مختلف الجنس مورتوں سے پہلے ایک ہی جنس کے درمیانی مورثوں کی اولاد کی تو ریت کا ذکر کیا جاتا ہے۔فرض کیجئے کہ ایک میت نے تین بیٹے دختر کی دختر زاہدہ کے اور دو بیٹیاں دختر کی دختر عابدہ کے چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔مورث مورث دختر (زاہدہ) بیٹا بیٹا دختر ( عابده) اس مثال میں درمیانی مورث ایک ہی جنس کے ہیں۔یعنی (عورت) اس لئے تقسیم بالراس ہو گی۔یعنی ذکور کو اناث سے دُگنا ملے۔نواسی زاہدہ کے ۳ لڑکے اور نواسی عابدہ کی دولڑ کیاں ہیں۔اس لئے جائداد کل آٹھ سہام ہوں گے۔جن میں سے ہر بیٹے کو دوسہام اور ہر بیٹی کو ایک سہم ملے گا۔نوٹ نمبر 1: امام محمد اور امام ابو یوسف ہر دو کی رائے کے مطابق یہی تقسیم ہوگی۔کیونکہ یہاں مورتوں کی جنس میں اختلاف نہیں۔نوٹ نمبر ۲: اس عنوان کے تحت ہر جگہ تقسیم ترکہ کے لئے جو طریق اختیار کیا گیا ہے۔وہ لازماً حضرت امام محمد کی رائے کے مطابق ہے۔کیونکہ زیادہ تر ان کی رائے پر ہی عمل کیا جاتا ہے۔حضرت ابو یوسف تو مورثوں میں اختلاف جنس کو درخور اعتنا ہی نہیں سمجھتے لہذا جہاں جہاں مؤخر الذکر امام کی رائے پر عمل کرنے سے ورثا کے حصوں کی مقدار میں کچھ فرق پڑتا ہو۔اسے نوٹ کی شکل میں ظاہر کر دیا گیا ہے تا جن علاقوں میں مؤخر الذکر امام کی رائے پر عمل کرنے کا دستور ہو۔وہ ان نوٹوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔