اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 165 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 165

۱۶۵ ذوی الارحام کا پہلا درجہ ! ذوی الارحام کے ہر درجہ کو میراث پہنچاتے وقت عام طور پر دو قاعدوں کو محوظ رکھا جاتا ہے۔الف۔توریت کی ترتیب بلحاظ درجہ اور قوت قرابت تقسیم ترکہ کے وقت یہ دیکھنا ہو گا کہ ذوی الارحام میں سے کون کون سے شخص یا اشخاص میراث پانے کے حقدار بنتے ہیں۔اس غرض کے لئے قواعد حجب سے کام لیا جاتا ہے۔۔ایسے ورثاء کے حصوں کا تعین ! یہ معلوم کر لینے کے بعد کہ کون کون اشخاص شرعی وارث ہیں۔ان کے حصوں کا تعین کیا جائے گا۔اس بارہ میں للذكر مثل حظ الانثیین کے اصول پر عمل کیا جاتا ہے۔جب ہم ذوی الارحام کے حصوں کے تعین کی بحث میں پڑتے ہیں تو ہمیں حضرت امام ابو حنیفہ کے دو بڑے مشہور شاگردوں امام محمد اور امام ابو یوسف کی رائے میں اختلاف نظر آتا ہے امام محمد کی رائے یہ ہے کہ موجودہ ورثاء کو حصہ دیتے وقت درمیانی مورثوں کی (جن کی وجہ سے یہ رشتہ دار وارث بنتے ہیں ) جنس اور قرابت کا لحاظ کیا جانا ضروری ہے۔امام ابو یوسف کی رائے ہے کہ موجودہ وارثوں کو حصہ دیتے وقت ان کے درمیانی مورثوں کی جنس اور قرابت کا لحاظ نہیں کرنا چاہئے بلکہ موجودہ وارثوں میں للذكر مثل حظ الانثیین کے تحت تمام ترکہ تقسیم کر دیا جائے یعنی فروع (اولاد) کی جنس و قرابت کا ہی لحاظ کرنا چاہئے ان کے اصول ( مورثوں) کی جنس اور قرابت کا لحاظ مطلقاً نہیں کرنا چاہئے۔ظاہر ہے کہ ان دونوں اماموں کی رائے کے مطابق حصوں کے تعین میں نمایاں فرق پڑ جاتا ہے۔جبکہ دعویدار فروع ہوں۔خواہ وہ درجہ اول کے ہوں (یعنی متوفی کی اولاد ہوں ) یا درجہ سوم کے (یعنی بہن بھائی کی اولاد ہوں ) یا درجہ چہارم کے ہوں (یعنی چچاؤں اور پھپھوں کی اولاد ہوں ) یہ اختلاف درجہ اوّل قسم نمبرا اور درجہ دوم میں ظاہر نہیں ہوتا کیونکہ ان دونوں صورتوں میں درمیانی مورث کی جنس کے اختلاف کا سوال ہی پیدا نہیں