اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 163 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 163

۱۶۳ ایک اور حدیث ہے۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْ أَنفُسِهِمْ۔(صحیح بخاری کتاب الفرائض) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قوم کا بھانجا انہیں میں سے ہوتا ہے یعنی بھانجے کو میراث پہنچتی ہے۔پس قرآن پاک ، سنت رسول اور احادیث نبوی سے ثابت ہوتا ہے کہ جب ذوی الفروض اور عصبات میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو ذوی الارحام کو میراث پہنچتی۔اور حضرت ابو حنیفہ اسی مسلک کے قائل ہیں۔چنانچہ جماعت احمد یہ بھی اسی امر کی قائل ہے کہ ذوی الارحام حالات کے مطابق اپنا اپنا حصہ پاتے ہیں۔باوجود یکہ جماعت کے پاس بیت المال کا خاطر خواہ انتظام موجودہ ہے۔لیکن پھر بھی میت کا ترکہ اس کے ورثاء میں بمطابق شریعت تقسیم کر دیا جاتا ہے۔اس مختصر سی بحث کے بعد اب ذوی الارحام کی اقسام ان کے درجہ اور قوت قرابت کے لحاظ سے بیان کی جاتی ہیں۔یہ یا درکھئے کہ ذوی الارحام کو میراث اس وقت ہی پہنچتی ہے جب ذوی الفروض اور عصبات میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو۔ہمارے فقہا کرام کے نزدیک وہ ذوی الفروض جو ذوی الارحام کی میراث میں روک ہیں یہ ہیں۔باپ، دادا، اخیافی بھائی، بیٹی ، پوتی ، حقیقی بہن ، علاتی بہن ، اخیافی بہن ، والدہ ، جدہ صحیحہ یعنی نانی ، دادی۔پس اگر ذوی الفروض میں سے خاوند یا بیوی زندہ ہوں تو ان کی موجودگی ذوی الارحام کی توریث میں مانع نہیں۔ان کو ان کے مقررہ حصے دینے کے بعد باقی کا ترکہ ذوی الارحام میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔جبکہ دوسرے ذوی الفروض میں ان کے حصوں کی نسبت سے تقسیم کر دیا جاتا ہے۔شوہر یا بیوی کے ہوتے ہوئے ذوی الا رحام کو کیوں حصہ مل جاتا ہے؟ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ رشتہ ( زوجیت ) انسان خود قائم کرتا ہے اس لئے یہ خود قائم کردہ رشتہ رحمی رشتہ داروں کو میراث پہنچنے میں مانع نہیں ہو سکتا۔یہی وجہ ہے کہ بقیہ ترکہ ان دونوں قسم کے وارثوں (خاوند اور بیوی) کی طرف رڈ نہیں ہوتا۔بلکہ دوسرے موجود ذوی الفروض یا عصبات کومل جاتا ہے اور اگر اور کوئی ذوی الفروض