اسلام کا وراثتی نظام — Page 143
۱۴۳ عصبہ ( حقیقی چا کا پوتا ) ذوی الفروض سے بچا ہوا تر کہ حاصل کرتا ہے۔اگر یہ (حقیقی چا کے پوتے ) ایک سے زیادہ ہوں۔خواہ ایک حقیقی چچا کے پوتے ہوں یا چند حقیقی چچاؤں کے پوتے ہوں سب کے سب مساوی الدرجہ ہونے اور مساوی قوت قرابت رکھنے کی وجہ سے میراث ( باقی ماندہ ترکہ) میں مساوی حصہ کے حقدار ہیں۔ان کی بہنیں یعنی حقیقی چچا کی پوتی / پوتیاں ان پوتوں کی وجہ سے، فقہ احمدیہ کی رو سے عصبہ باالغیر بن جاتی ہیں۔لہذا بقیہ ان میں ۲ : ۱ سے تقسیم ہو گا۔فقہ حنفیہ کی رو سے یہ نہیں بنتی یعنی حقیقی چچا کی پوتی / پوتیاں ان پوتوں کی وجہ سے عصبہ نہیں بنتی بلکہ ان کا شمار ذوی الارحام میں ہی ہو گا۔اس لئے وہ بطور عصبہ محروم رہیں گی۔مثال نمبر ۱۰: ایک میت نے ایک بیوی، ایک حقیقی بہن، دو حقیقی چا کے پوتے اور ایک حقیقی چا کی پوتی اپنے وارث چھوڑے اس کی جائداد میں ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔نیز اگر جائداد ۸۰۰۰ روپے ہو تو ہر ایک کو کتنی کتنی رقم ملے گی؟ جب کہ میت کے ذمہ کسی قسم کا قرض نہ ہو۔بیوی کا حصہ بہن کا حصہ باقی = 1/M 1/M = = + = ( + ) - 1 یہ (۱/۴ حصہ ) درجہ چہارم کے پانچوں عصبات ( حقیقی چچاؤں کے پوتوں ) میں تقسیم ہوگا۔کیونکہ ان سے پہلے درجوں اور نمبروں والے عصبات موجود نہیں۔حقیقی چچا کی پوتی محروم رہے گی کیونکہ یہ ذوی الارحام میں شامل ہے۔(فقہ حنفیہ کے مطابق ) اس لئے چچا کے دو پوتوں کا حصہ = ۱/۴ ایک کا حصہ 1/A = لہذا ۸۰۰۰ میں زوجہ کا حصہ ۸۰۰۰ میں بہن کا حصہ = ۸۰۰۰ × = ۲۰۰۰ روپے ۸۰۰۰ × + = ۲۰۰۰ روپے ہر ایک ( چچا کے ) پوتے کا حصہ = ۸۰۰۰ × | = ۱۰۰۰ روپے عصبہ درجہ چہارم نمبر ۶ علاقی چچا کا پوتا: