اسلام کا وراثتی نظام — Page 140
۱۴۰ عصبہ درجہ سوم نمبر ۴ علاقی بھتیجا : جب میت کے حقیقی بھائی ، علاقی بھائی اور حقیقی بھتیجا میں سے کوئی بھی موجود نہ ہوں اور نہ ہی درجہ اول یا دوم کا کوئی عصبہ موجود ہو تو علاتی بھیجا وہ سب مال حاصل کر لیتا ہے جو ذوی الفروض کے حصوں کی ادائیگی کے بعد بچ جاتا ہے یہ بھتیجے خواہ ایک ہی علاتی بھائی کے بیٹے ہوں یا مختلف علاتی بھائیوں کے بیٹے ہوں میراث میں برابر کے حقدار ہیں۔اگر علاقی بھیجی بھی موجود ہو تو وہ علاتی بھتیجے کے ساتھ عصبہ باالغیر بن جائے گی۔جب تک کوئی علاتی بھتیجا موجود ہو۔اس وقت تک نہ حقیقی بھائیوں کے پوتوں کو کچھ ملے گا اور نہ ہی علاقی بھائیوں کے پوتوں کو کچھ ملے گا۔عصبہ درجہ سوم نمبر ۵ بھتیجے کا بیٹا ( حقیقی بھائی کا پوتا): جب حقیقی بھائی ، علاتی بھائی ، حقیقی بھتیجا اور علاتی بھیجا کوئی بھی موجود نہ ہو۔اور نہ ہی درجہ اول یا دوم کا کوئی عصبہ موجود ہو۔تب ذوی الفروض سے بچا ہوا تر کہ حقیقی بھائی کا پوتا حاصل کرتا ہے اگر حقیقی بھائی کے پوتے دو یا دو سے زائد ہوں تو وہ سب اس میں برابر کے شریک ہوں گے اسی طرح اگر حقیقی بھائی ایک سے زائد ہوں تو وہ سب اس میں برابر کے شریک ہوں گے اسی طرح اگر حقیقی بھائی ایک سے زیادہ ہوں اور اُن کے پوتے مختلف تعداد میں ہوں تب بھی ان تمام بھائیوں کے تمام پوتے میراث میں برابر کے حق دار ہوں گے۔اور حقیقی بھائی کا پوتا علاقی بھائی کے پوتے کا کو محجوب کرتا ہے۔عصبہ درجہ سوم نمبر 4 علاتی بھیجے کا بیٹا (یعنی علاقی بھائی کا پوتا ): جب درجہ سوم کے عصبات میں سے حقیقی بھائی ، علاتی بھائی، حقیقی بھتیجا، علاتی بھتیجا اور حقیقی بھائی کا پوتا کوئی بھی موجود نہ ہوں اور نہ درجہ اول یا دوم کا کوئی عصبہ موجود ہو۔تب علاقی بھائی کے پوتے کو ذوی الفروض سے بچا ہوا حصہ مل جاتا ہے اگر یہ پوتے دو یا دو سے زائد ہوں خواہ ایک علاتی بھائی کے پوتے ہوں یا متعدد علاقی بھائیوں کے پوتے ہوں باقی ماندہ ترکہ میں برابر کے حصہ دار ہوں گے اگر میت کی حقیقی بہن اور بیٹی موجود ہوں تو یہ تمام علاقی بھائی کے پوتے محروم ہو جاتے ہیں اور جب تک یہ علاقی بھائی کے پوتے)