اسلام کا وراثتی نظام — Page 136
۱۳۶ پھر ان کا حال پڑ پوتوں کی مانند ہوگا۔1/4 درجہ دوم کے عصبات وہ ہیں جو میت کی اصل ہوں۔یعنی باپ، دادا، پڑدادا، سکر دادا وغیرہ کیونکہ یہ ذوی الفروض میں بھی شامل ہیں اور ۱/۶ حصہ پاتے ہیں۔اس لئے درجہ اول کے عصبات میں سے اگر کوئی موجود ہو تو یہ لوگ بطور عصبہ کچھ نہیں پاتے صرف بطور ذوی الفروض اپنا حصہ پاتے ہیں۔اگر درجہ اول کا کوئی عصبہ بھی موجود نہ ہو تو پھر یہ درجہ دوم کے عصبات ذوی الفروض ہونے کے ساتھ ساتھ باقی ماندہ ترکہ بھی بطور عصبہ حسب ترتیب حاصل کر لیتے ہیں۔اگر ذوی الفروض میں سے کوئی بھی نہ ہو تو پھر سارا تر کہ انہیں کو مل جاتا ہے۔اگر کوئی ان سے نیچے درجہ کا عصبہ بھی موجود ہو تو اُسے یہ محروم کر دیتے ہیں۔اب ہر ایک کے حالات بحیثیت عصبہ علیحدہ علیحدہ درج کئے جاتے ہیں تا کہ آسانی سے ان کے مسائل سمجھ آ سکیں۔عصبہ درجہ دوم نمبر ا باپ: اگر درجہ اول کے عصبات میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو اور نہ ہی میت کی کوئی بیٹی پوتی وغیرہ موجود ہو تو ذوی الفروض کو حصہ دینے کے بعد جو کچھ بھی بچے گا وہ سب والد بطور عصبہ حاصل کرے گا۔باپ کی موجودگی میں دادا محروم ہوتا ہے۔بطور ذوی الفروض بھی اور بطور عصبہ بھی اور اگر درجہ اول کے عصبات میں سے کوئی بھی موجود ہو تو خود باپ کو بھی ترکہ میں سے بطور عصبہ کچھ نہیں ملے گا۔البتہ بطور ذوی الفروض اپنا مقررہ حصہ ( یعنی صرف ۱/۶) لے گا۔عصبه درجه دوم نمبر ۲ دادا: جب میت کا باپ زندہ نہ ہو تو دادا اس کا قائم مقام بن جاتا ہے اور اسے ہر وہ حق حاصل ہوتا ہے جو والد کو مختلف حالات میں حاصل ہوتا ہے۔(سوائے ایک معمولی سے فرق کے جس کا ذکر آگے پڑدادا کے عنوان کے تحت آئے گا ) دادا بھی باپ کی طرح کسی وقت صرف ذوی الفروض میں شامل ہوتا ہے اور کسی وقت دونوں قسموں کے ورثاء میں یعنی ذوی الفروض میں بھی اور عصبات میں بھی۔لیکن بطور عصبہ یہ اسوقت ہی کچھ مال حاصل کرے گا جب درجہ اول کے عصبات میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو۔میت کے باپ کی موجودگی میں