اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 137 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 137

۱۳۷ دا دا مکمل طور پر محروم ہو جاتا ہے میت کے بیٹے کی موجودگی میں اسے صرف اپنا مقررہ حصہ (۱/۶) ملتا ہے۔اور یہ خود اپنے سے کم قوت قرابت والوں مثلاً پڑدادا ، سکڑ دادا وغیرہ کو محروم کرتا ہے۔عصبه درجه دوم نمبر ۳ پڑدادا: اگر باپ اور دادا موجود نہ ہوں تو پڑدادا باپ کا قائم مقام ہوتا ہے اور اسے وہی حقوق حاصل ہوتے ہیں جو والد کو حاصل تھے (انہیں دہرانے کی ضرورت نہیں ) جس طرح دادا پڑدادا کو محروم کرتا ہے اسی طرح پڑدادا اپنے سے کم قوت قرابت والوں کو مثلاً سکٹر دادا، لکڑ دادا وغیرہ سب کو محروم کر دے گا۔پس یہ بھی یادرکھئے کہ اگر والد میت کا زندہ نہ ہو تو دادوں ( جد صحیح) میں سے وہ دادا وارث ہوگا۔جو سب سے زیادہ قریب ہوگا اور وہ والد کا قائم مقام ہوگا۔احکام وراثت میں والد اور دادے کے حق اور اثر میں کچھ معمولی سا اختلاف ہے جس کی تفصیل ذوی الفروض کے باب میں بیان ہو چکی ہے اور یہاں بطور یاد دہانی دوبارہ درج کی جاتی ہے۔الف۔حق کا فرق - اگر میت نے اپنے ورثاء زوج یا زوجہ ، والدہ اور والد چھوڑے ہوں تو زوج یا زوجہ کو اُن کا حصہ ادا کرنے کے بعد جو باقی بچے اس کا ۳/ ا والدہ کو اور ۲/۳ والد کو دیا جاتا ہے، لیکن اگر میت نے اپنے ورثاء زوج یا زوجہ، والدہ اور دادا چھوڑے ہوں تو والدہ کو کل ترکہ کا ۱/۳ اور زوج یا زوجہ کو اُن کا معین حصہ دینے کے بعد جو کچھ بچے وہ دادا کو دیا جاتا ہے اس صورت میں دادا والد کی نسبت قدرے کم حصہ حاصل کرتا ہے۔ب۔اثر کا فرق۔باپ کی موجودگی میں دادی محروم ہوتی ہے، لیکن دادا کی موجودگی میں دادی محروم نہیں ہوتی۔پڑدادا سے اوپر کے عصبات بھی پڑدادا کی طرح باپ کے قائم مقام ہوتے ہیں۔اس لئے ان کے ذکر کو چھوڑ دیا گیا ہے اور ہم درجہ دوم کے تین نمبر تک کے ہی عصبات پر اکتفا کرتے ہیں۔نوٹ : درجہ دوم کا ہر عصبہ درجہ سوم کے ہر عصبہ کو محروم کرے گا۔