اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 125 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 125

۱۲۵ کے درمیان کوئی عورت واسطہ نہ ہو۔مثلاً بیٹا ، پوتا، پڑپوتا، باپ، دادا، پڑدادا وغیرہ عصبہ بنفسہ ہیں۔اگر میت اور کسی مرد رشتہ دار کے درمیان عورت کا واسطہ ہو تو وہ عصبہ نہیں ہوگا۔اس لئے اخیافی بھائی، بھانجے ، نواسے ، نانا، پڑنا نا وغیرہ عصبات میں شامل نہیں۔۲۔عصبہ بالغیر : میت کے وہ رشتہ دار جو عصبہ بننے میں کسی دوسرے عصبہ کے محتاج ہوں عصبہ بالغیر کہلاتے ہیں۔اس لحاظ سے میت کی وہ رشتہ دار عورتیں جن کو غیر ( یعنی کوئی دوسرا عصبہ بنفسم ) عصبہ بنا ئیں۔عصبہ بالغیر کہلاتی ہیں۔اس لئے بیٹی ، پوتی ، حقیقی ہمشیرہ اور علاقی ہمشیرہ عصبہ بالغیر ہیں۔کیونکہ یہ بالترتیب بیٹے ، پوتے ( یا پوتے کے موجود نہ ہونے کی صورت میں پڑ پوتے ) حقیقی بھائی اور علاقی بھائی کی وجہ سے عصبہ قرار پاتی ہیں۔۔عصبہ مع الغیر : میت کے وہ رشتہ دار جو عصبہ بننے میں کسی دوسرے کے محتاج تو ہوں ، لیکن وہ محتاج الیہ خود عصبہ بنفسہ نہ ہو تو وہ عصبہ مع الغیر کہلاتے ہیں۔اس لحاظ سے میت کی وہ رشتہ دار عورتیں جو کسی ایسی عورت یا عورتوں کی موجودگی کی بنا پر جو خود عصبہ نہ ہوں، عصبہ بن جائیں تو وہ عصبہ مع الغیر کہلاتی ہیں۔مثلاً بعض صورتوں میں بیٹی، بیٹیوں ، پوتی پوتیاں بذات خود عصبہ نہیں ہوتیں اس لئے ایسی رشتہ دار عورتیں جو دوسری عورتوں کی موجودگی کی وجہ سے عصبہ بن جائیں۔عصبہ مع الغیر کہلاتی ہیں۔۲۔عصبہ سبی عصبہ سبی اسے کہتے ہیں جو رشتہ داری کے سوا کسی اور وجہ ( سبب ) سے عصبہ بنے۔مثلاً مولی العناقه عصبہ سبی ہے مولیٰ کے معنی شریک کے ہیں اور علاقہ کے معنے آزاد ہونے کے ہیں۔آزاد کرنے والا آقا اپنے آزاد شدہ غلام کا مولی العتاقہ کہلاتا ہے۔کیونکہ آزاد کرنے والے آقا اور آزاد شدہ غلام کے درمیان ایک طرح کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے جس کو ولاء کہتے ہیں اس سبب سے آقا بعض اوقات اپنے آزاد شدہ غلاموں کا بطور عصبہ وارث بنتا ہے چنانچہ ایسے آقا کو عصبہ سبی کہا جاتا ہے چونکہ موجودہ دور میں ایسے عصبہ کے احکام کی ضرورت پیش نہیں آتی۔اس لئے اس پر بحث نہیں کی جائے گی کیونکہ اس زمانہ میں عصبہ کی یہ قسم مفقود ہے۔