اسلام کا وراثتی نظام — Page 124
۱۲۴ عصبات ذوی الفروض کو اُن کے مقررہ حصے دینے کے بعد جو کچھ بچ جاتا ہے وہ عصبات میں تقسیم کیا جاتا ہے اور اگر ذوی الفروض میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو تمام تر کہ میت کے عصبات میں تقسیم کر دیا جاتا ہے یہ ترتیب تقسیم صحیح بخاری کتاب الفرائض کی اس حدیث کے مطابق ہے۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَم قَالَ الْحِقُوالْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لَا وُلَى رَجُلٍ ذَكَرِه ”حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا مقررہ حصے ان کے مستحقین ( ذوی الفروض ) تک پہنچا دو اور جو باقی رہے وہ زیادہ قریبی مرد کے لئے ہے۔“ ( یعنی عصبہ کے لئے ) عصبات عصبہ کی جمع ہے اور اس کے معنے ہیں باپ کی جانب سے رشتہ دار، وراثتی اصطلاح میں اس شخص کو کسی کا عصبہ کہیں گے۔جو اس کی نسل سے ہو یا وہ اس کی نسل سے ہو۔چونکہ اسلام میں اولاد باپ کی طرف منسوب ہوتی ہے اس لئے بیٹا اپنے باپ کا سب سے پہلا عصبہ قرار پائے گا۔عصبہ کی دو قسمیں ہیں۔عصبہ نسبی۔عصبہ سبی۔عصبه نسبی عصبہ نسبی وہ عصبہ ہے جو نسب ونسل کی بناء پر رشتہ دار ہو۔اور اس کی بھی آگے تین ا۔عصبہ بنفسم یا عصبہ بذاتہ: یعنی میت کا وہ مرد رشتہ دار کہ اس کے اور متوفی اقسام ہیں۔