اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 104 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 104

۱۰۴ حضرت امام ابو یوسف فرماتے ہیں یہ چھٹا حصہ تعداد افراد کے لحاظ سے تقسیم ہو گا یعنی جتنی جدہ ہیں اتنے ہی حصے ہوں گے۔دو جدہ ہیں تو دو برابر حصے ہوں گے تین ہیں تو تین برابر حصے ہوں گے۔(علی ہذا القیاس) حضرت امام احمد بن حنبل اور حضرت امام محمد فرماتے ہیں کہ یہ چھٹا حصہ تعداد جہات کے لحاظ سے تقسیم ہو گا۔یعنی میت کے ساتھ جتنے رشتے ہوں گے۔اتنے ہی حصے ہوں گے۔میت کے ساتھ جس جدہ کے دو یا تین رشتے ہوں وہ دو یا تین حصے (۱/۶ میں سے ) حاصل کرے گی اور جس کا ایک رشتہ ہو گا اس کو صرف ایک حصے ملے گا۔مثال نمبر ۳۹ : ایک میت نے خاوند، دو اخیافی بھائی، باپ کی نانی اور ماں کی نانی جو کہ باپ کی دادی بھی ہے وارث چھوڑے ترکہ میں ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔خاوند کا حصہ 1/ r = دوا خیافی بھائیوں کا حصہ = ۱/۳ دونو جدہ صحیحہ الف۔باپ کی نانی ب۔ماں کی نانی اور باپ کی دادی کا حصہ ۱/۶ امام ابو یوسف کے اصول کے مطابق یہ ۱/۶ باپ کی نانی اور ماں کی نانی (جو باپ کی دادی بھی ہے ) ہر دو میں برابر تقسیم ہو گا۔یعنی ہر ایک کو ترکہ کا ۱/۱۲ حصہ ملے گا۔امام محمد کے اصول کے مطابق یہ ۱/۲ باپ کی نانی اور ماں کی نانی ( جو باپ کی دادی بھی ہے ) ہر دو میں ۲:۱ کی نسبت سے تقسیم ہو گا کیونکہ متوفی سے دوسری ( دادی) کا ; = ۱۸ x + : = = رشتہ دوہرا ( دو جہت سے ) ہے۔اس لئے باپ کی نانی کا حصہ ماں کی نانی اور باپ کی دادی کا حصہ یعنی اگر جائداد کے ۱۸ سہام کئے جائیں تو خاوند کے نو ہر ایک اخیافی بھائی کے تین، باپ کی نانی کا ایک اور دوسری جدہ کے دوسہام ہوں گے۔مثال نمبر ۴۰ : ایک میت نے اپنے باپ کی نانی اور ماں کی نانی جو کہ باپ کی دادی بھی ہے