اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 103 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 103

۱۰۳ جد صحیح کا بیان او پر نمبر ۲ کے تحت آچکا ہے۔یہاں جدہ صحیحہ کی میراث کا بیان ہوگا۔جنہیں ہم (اردو میں) نانی یا دادی کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔اس کی وراثت کی صرف تین صورتیں ہیں ( جدہ صحیحہ میں نانی ، دادی، دادا کی ماں ، نانی کی ماں وغیرہ سب شامل ہیں۔) الف۔نانی ہو یا دادی اس کے لئے ترکہ کا چھٹا حصہ مقرر ہے بشرطیکہ یہ اپنے کسی ر قریبی رشتہ دار کی وجہ سے محجوب نہ ہوتی ہو۔اگر ان کی تعداد زیادہ ہو خواہ والد کی طرف سے ہوں یا ماں کی طرف سے ہوں۔لیکن ہوں مساوی الدرجہ یعنی ایک ہی درجہ کی ہوں تو یہ سب اس چھٹی (۱/۶) حصہ میں برابر کی حقدار ہوں گی اگر درجہ میں برابر نہیں تو دور کے رشتہ والی کو نزد یکی رشته والی محروم کر دے گی جیسے پڑدادی کو دادی محروم کرتی ہے کیونکہ پڑدادی دوسرے درجہ کی ہے۔اور دادی پہلے درجہ کی۔دادی کی موجودگی میں پڑنانی بھی محروم ہوگی۔کیونکہ وہ بھی دوسرے درجہ کی ہے۔اسی طرح اگر نانی موجود ہو تو پڑنانی ، پڑدادی دونوں محروم ہوں گی۔کیونکہ پڑدادی، پڑنانی دوسرے درجہ کی ہیں اور نانی پہلے درجہ کی۔ماں کی موجودگی میں ان میں سے کوئی بھی وارث نہ ہو گی۔نہ نانی نہ دادی ، نہ پڑنا نی نہ پڑدادی وغیرہ سب محروم رہیں گی۔ہمارے بعض فقہاء اور علماء کی رائے میں باپ کی موجودگی میں بھی دادی وارث ہوتی ہے، لیکن اکثریت اس کے خلاف ہے۔چنانچہ حضرت امام ابو حنیفہ، حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی اس امر کے حق میں نہیں ہیں یہ تینوں امام باپ کی موجودگی میں دادی کے حصہ کے قائل نہیں اور صحیح بھی یہی ہے کہ باپ کے ہوتے ہوئے دادی وارث نہیں ہو سکتی۔اسی طرح دادے کی موجودگی میں پڑدادی وارث نہیں ہوسکتی۔اس بارہ میں ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے یعنی جب جدہ ایک سے زیادہ ہوں اور ان میں سے کسی جدہ کا میت سے ایک رشتہ ہو اور کسی دوسری کے دو یا دو سے زیادہ رشتے ہوں مثلاً ایک جدہ نانی کی ماں بھی ہے اور دادے کی ماں بھی اور ایک صرف دادی کی ماں ہے یہ دونوں تیسرے درجہ کی ہیں لیکن میت سے پہلی جدہ کا تعلق دو جہت سے ہے اور دوسری کا صرف ایک جہت سے ہے ایسی صورت میں چھٹا حصہ جو ان سب کو ملے گا اس کی تقسیم میں اختلاف ہے۔