اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 102 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 102

۱۰۲ ١/٦ بھی ان ہی وارثوں میں ان کے حصوں کے تناسب سے تقسیم (رڈ ) کر دیا جائے گا کیونکہ عصبہ موجود نہیں۔لہذا آخر میں بالترتیب ان کے حصے ۳/۵، ۱/۵ اور ۱/۵ ہوں گے۔مثال نمبر ۳۸ ایک شخص کی پہلی والدہ سے صرف ایک بہن ہے دوسری والدہ سے اکیلا وہی ہے یہ والدہ اس کی حقیقی والدہ ہے ) تیسری والدہ سے اس کی دو بہنیں ہیں چوتھی والدہ سے صرف ایک بھائی ہے اس طرح اس کی تین علاتی بہنیں اور ایک علاقی بھائی ہوا۔اس کی اپنی والدہ کے علاوہ تینوں سوتیلی والدہ بھی زندہ تھیں۔اس کی جائداد میں ہر ایک وارث کا حصہ بتائیے۔جب کہ جائداد ۳۰۰۰ روپے کی مالیت کی ہو۔میت کی حقیقی والدہ کا حصہ = ۱/۶ ( تینوں سوتیلی مائیں محروم ) باقی = 1 - + = یه فحص عصبات کا حق ہے جو ایک علاقی بھائی اور تین علاتی بہنوں میں ۱:۲ کی نسبت۔تقسیم ہوگا۔اس لئے ہر علاقی بھائی کا = F = x = ہر علاقی بہن کا حصہ = ۳۰۰۰ روپے میں والدہ کا حصہ = ۳۰۰۰ × ۱/۲=۵۰۰ روپے ۳۰۰۰ روپے میں علاقی بھائی کا حصہ = ۳۰۰۰ × ۱/۳=۱۰۰۰ روپے ۳۰۰۰ روپے میں ہر علاتی بہن کا حصہ = ۳۰۰۰ × ۱/۶ - ۵۰۰ روپے ۱۲۔نانی، دادی کا حصہ باب پنجم میں وراثتی اصطلاحات کے تحت جد صحیح، جد فاسد ، جدہ صحیحہ اور جدہ فاسدہ کی تعریف بیان ہو چکی ہے۔یہ بھی بتایا گیا کہ جد فاسد اور جدہ فاسدہ ذوی الارحام میں شامل ہیں۔اس لئے وراثت میں ان کے حصہ کا ذکر ذوی الارحام کے باب میں آئے گا۔