اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 101 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 101

= 1+1 = ایک علاتی بہن کا حصہ دوا خیافی بھائی اور ایک اخیافی بہن کا حصہ = ۱/۳ +=+ x + = ایک اخیافی بھائی یا بہن کا حصہ کیونکہ اخیافی بہن بھائیوں کو مساوی حصے ملتے ہیں ) اس لئے اگر ترکہ کے حصے کئے جائیں تو دو حصے ہر ایک علاتی بہن کو اور ایک ایک حصہ ہر ایک اخیافی بہن بھائی کو ملے گا۔مثال نمبر ۳۶ : ایک میت نے ایک حقیقی بہن ، ۲ علاتی بہنیں اور دو اخیافی بہن بھائی اپنے ورثاء چھوڑے میت کے ترکہ میں ان کے حصے بتائیے۔حقیقی بہن کا حصہ 1/5 = دو علاقی بہنوں کا حصہ = ۱/۲ اس لئے ہر ایک کا حصہ = ۱/۱۲ دوا خیافی بہنوں کا حصہ = ۱/۳ اس لئے ہر ایک کا حصہ = ۱/۶ چونکہ یہاں صرف ایک ہی حقیقی بہن ہے اس لئے علاتی بہنیں مجوب الارث نہیں ہیں۔انہیں 1/4 حصہ ملتا ہے تا کہ حقیقی بہن کے حصے ۱/۲ کے ساتھ مل کر ۲/۳ ہو جائے جو کہ حقیقی بہنوں کا مجموعی حصہ ہے۔(سراجیہ ۲۱) یعنی اگر ترکہ کے بارہ میں حصے کریں تو حقیقی بہن کے چھ ہر علاتی بہن کا ایک اخیافی بھائی کے دو اور اخیافی بہن کے دو حصے ہوں گے۔مثال نمبر ۳۷ : ایک میت نے ایک حقیقی ہمشیرہ ایک علاقی ہمشیرہ اور ایک اخیافی ہمشیرہ وارث چھوڑیں۔ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔1/5 1/4 1/4 = = ( ÷ + + + ) - حقیقی ہمشیرہ کا حصہ علاقی ہمشیرہ کا حصہ اخیافی ہمشیرہ کا حصہ =