اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 81 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 81

ΔΙ شریک ہوں گے۔اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ حصہ انہیں صرف ماں کے مشترک ہونے کی وجہ سے مل رہا ہے۔اس لئے ۲ : ۱ کی نسبت یعنی بھائی کو بہن سے دُگنا حصہ دیئے جانے کا اصول مد نظر نہیں رکھا جاتا اور تمام اخیافی بہن بھائی ۱/۳ میں برابر کے حصہ دار سمجھے جاتے ہیں۔مثال نمبرے : ایک میت نے والدہ ، ایک اخیافی بھائی اور ایک حقیقی بھائی وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔والدہ کا حصہ 1/7= اخیافی بھائی کا حصہ = ۱/۶ باقی ١ - (۱/۶/۱/۶) = ۲/۳ حقیقی بھائی کا حصہ ہے یعنی اگر جائداد کے چھ سہام کئے جائیں تو ایک والدہ کو، ایک اخیافی بھائی کو اور ۴ حقیقی بھائی کو ملیں گے۔مثال نمبر ۸ : کسی میت نے ایک زوجہ، تین اخیافی بہن بھائی اور ایک چا چھوڑے ہیں ہر ایک وارث کا علیحدہ علیحدہ حصہ بتائیے۔ورثاء میں سے زوجہ، اخیافی بہن بھائی ذوی الفروض میں شامل ہیں اور چچا عصبہ ہے۔زوجہ کا حصہ = ۱/۴ کیونکہ اولا دموجود نہیں۔تین اخیافی بہن بھائیوں کا حصہ = ۱/۳ ہر ایک کا حصہ = ۱/۹ =( چچا کا حصہ = 1- ( + ) -- + = ۱۲ ۱۲ گویا اگر جائداد کے ۳۶ سہام کئے جائیں تو ۹ زوجہ کے ۴ ہر اخیافی بہن بھائیوں کے اور ۵ اسہام چچا کے ہوں گے۔مثال نمبر ۸ : ایک کلالہ متوفی نے تین اخیافی بہن بھائی اور تین حقیقی بھائی وارث چھوڑے ہر