اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 70 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 70

صحابہ کرام میں جاری فرمایا تھا اور جس کی وجہ سے وہ وراثت میں بھی ایک دوسرے کے حق دار بن جاتے تھے۔احکام وراثت کے نزول کے بعد ختم ہو گیا تھا اور اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل شروع ہو گیا تھا۔اس لئے کوئی بھی مونہہ بولا بھائی یا بہن شرعی وارثوں کی طرح وارث نہیں ہو سکتے۔ے۔زنا کی وجہ سے ہرگز کوئی تعلق میراث قائم نہیں ہوتا اسلام نے زنا جیسی بدی کو ہر طرح سے معاشرہ سے دُور کرنے کا حکم دیا ہے اس لئے اس بدی کے نتیجہ میں جو بچہ پیدا ہو وہ زانی کا وارث نہیں بن سکتا۔اور نہ زانی اس کا وارث بن سکتا ہے۔یہ امتناع اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ بنی نوع انسان ایک پاک اور صاف معاشرہ قائم کرسکیں اور کوئی کسی کے حقوق پر غاصبانہ قبضہ کسی طور پر نہ کر سکے اس لئے ولد الزنا اپنے زانی باپ کے ترکہ میں میراث کا حق دار نہیں اسی طرح یہ زانی باپ اپنے اس ولد الزنا کے ترکہ کا حق دار نہیں اور نہ زانیہ زانی کے ترکہ سے حصہ پاسکتی ہے اور نہ ہی زانی زانیہ کے ترکہ سے حصہ پاسکتا ہے۔البتہ ایسا بچہ اپنی ماں کا وارث ہے اور ماں اس کی وارث۔چند ایسے امور جن کی بنا پر شریعت اسلامی کی رُو سے کسی وارث کو قطعاً محروم نہیں کیا جا سکتا ، لیکن ناقص معاشرہ اور بدرسوم کے نتیجہ میں لوگ بعض وارثوں کو محروم کر دیتے ہیں۔بعض خاندان اپنی نوجوان بیوہ بہو بیوہ بیٹی کو خواہ وہ جوانی میں ہی بیوہ ہو جائے دوسرا نکاح کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔سروال والے یہی چاہتے ہیں کہ وہ جیسے بھی ہو اپنی بقیہ زندگی ان کے در پر ہی گزار دے اگر وہ نکاح ثانی کرے یا کرنے کی کوشش کرے تو اسے اس کے وفات یافتہ خاوند کی جائداد سے مع اس کے بچوں کے (اگر کوئی ہوں ) محروم کر دیتے ہیں۔جائداد پر خود قبضہ کر بیٹھتے ہیں اور نکاح ثانی کو اپنی جھوٹی عزت کا سوال بنا لیتے ہیں۔ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد اَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمُ ( نور :۳۳) کے مطابق بیواؤں کی دوسری شادی کرنے کا حکم ہے۔پس انہیں وہی کرنا چاہئے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کرنے کے لئے کوئی حیلہ اختیار نہ کیا جائے ورنہ ایسا شخص ہر لحاظ سے نقصان اٹھائے گا۔کون ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کامیاب ہوسکتا ہے اس لئے ایسے لوگوں کو جو کہ بیوگان کو نکاح ثانی سے اس لئے روکتے ہیں ا۔