اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 39 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 39

۳۹ باب چهارم تر که یا میراث تجهیز و تکفین ادائیگی قرض وصیت کسی شخص کی وفات پر اس کی تمام پس ماندہ اشیاء کو تر کہ یا میراث کہتے ہیں۔اس میں ہر قسم کی جائداد منقولہ ہو یا غیر منقولہ، یا جو کسی کے ذمہ قرض ہو سب شامل ہے البتہ ایسی اشیاء جن پر متوفی کا مالک ہونا ثابت نہیں وہ اس کی میراث یا ترکہ میں شامل نہیں ہوں گی۔میراث کی تقسیم سے پہلے تین چیزیں مقدم ہیں۔ا تجهیز و تکفین ۲۔ادائیگی قرض ۳۔وصیت متوفی کے ترکہ میں سے سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کئے جائیں۔یہ یاد رہے کہ تجہیز و تکفین نہایت سادہ رنگ میں ہو اور شرعی طریقوں سے سنت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق کی جائے۔مسلمانوں کے بعض فرقے میت کی تجہیز و تکفین پر اس قدر رقم خرچ کر دیتے ہیں اور ایسے ایسے چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔جن کی وجہ سے ترکہ کا بہت سا حصہ ضائع ہو جاتا ہے یہ اسراف بالآ خر یتیم بچوں کے حصوں پر بری طرح اثر انداز ہو کر انہیں معاشی لحاظ سے مفلوج کر دیتا ہے اور قیامت کے دن بھی یقیناً اس غلط طرز عمل کا مواخذہ ہو گا۔کیونکہ یہ سب کچھ سنت نبوی اور شرعی طریقوں کے خلاف ہے۔بلکہ اگر کوئی وارث یا قریبی رشتہ دارمیت کی تجہیز و تکفین کا خرچ خود برداشت کرنا چاہے تو ورثا کی رضا مندی سے برداشت کر سکتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی متمول آدمی کسی غریب کے کفن دفن کے اخراجات ادا کرنا چاہے تو اس غریب کے وارثوں پر یہ لازم نہیں کہ وہ اس کی پیشکش کو ضرور قبول کریں وہ اسے رڈ بھی کر سکتے ہیں۔بیوی کی تجہیز و تکفین کے اخراجات بذمہ خاوند ہیں اس کے ترکہ سے وضع نہیں ہوتے۔اگر کوئی متوفی بہت ہی غریب اور بالکل لاوارث ہو تو اس کی تجہیز و تکفین کے